ہجر ہے اب تھا یہیں میں زار ہم پہلوئے دوست
ہجر ہے اب تھا یہیں میں زار ہم پہلوئے دوست میرے بستر پر مجھے تڑپا رہی ہے بوئے دوست ختم زینت ہو گئی مشاطہ نے لے لیں بلائیں گیسوئے پر خم نے چومے شانہ و بازوئے دوست امتحاں قوت کا ہے تلوار اٹھائی جاتی ہے اب تو اس قابل ہوئے ہیں پنجہ و بازوئے دوست زخم کھاتا بڑھ کے میں اور وہ لگاتا بڑھ ...