قومی زبان

ہجر ہے اب تھا یہیں میں زار ہم پہلوئے دوست

ہجر ہے اب تھا یہیں میں زار ہم پہلوئے دوست میرے بستر پر مجھے تڑپا رہی ہے بوئے دوست ختم زینت ہو گئی مشاطہ نے لے لیں بلائیں گیسوئے پر خم نے چومے شانہ و بازوئے دوست امتحاں قوت کا ہے تلوار اٹھائی جاتی ہے اب تو اس قابل ہوئے ہیں پنجہ و بازوئے دوست زخم کھاتا بڑھ کے میں اور وہ لگاتا بڑھ ...

مزید پڑھیے

باغ میں جگنو چمکتے ہیں جو پیارے رات کو

باغ میں جگنو چمکتے ہیں جو پیارے رات کو یاد آتے ہیں ان آنکھوں کے اشارے رات کو شبہ ہے تم کو کہاں ٹوٹے ہیں تارے رات کو دم بہ دم آنسو ٹپکتے تھے ہمارے رات کو ٹوٹے تارے سیکڑوں یوں قدسیوں کے دل ہلے درد سے جس وقت ہم تم کو پکارے رات کو پوری گردش آسماں نے شام سے کی تا سحر آج میں نے گن لیے ...

مزید پڑھیے

اگر گل کی کوئی پتی جھڑی ہے

اگر گل کی کوئی پتی جھڑی ہے تو سو سو بار بلبل گر پڑی ہے نظر کیا جائے سوئے شیشہ و جام ہماری آنکھ ساقی سے لڑی ہے یہ ہے جوش بہار ان کے چمن میں کہ ہر اک شاخ پھولوں کی چھڑی ہے سنی رفعت سلیماں کی تو بولے ہماری اک انگوٹھی گر پڑی ہے تمہاری زلف سے کم ہے شب ہجر مگر روز قیامت سے بڑی ہے اک ...

مزید پڑھیے

کبھی گیسو نہ بگڑے قاتل کے

کبھی گیسو نہ بگڑے قاتل کے ناز بردار ہیں مرے دل کے مجھ کو اغیار سے بھی الفت ہے کہ یہ کشتے ہیں میرے قاتل کے اٹھے جاتے ہیں بزم عالم سے آنے والے تمہاری محفل کے ان کے در تک پہنچ کے مرتا ہوں ڈوبتا ہوں قریب ساحل کے داغ دل گھٹ رہے ہیں پیری میں بجھ رہے ہیں چراغ محفل کے ہے مسافر نواز تیغ ...

مزید پڑھیے

شراب ناب کا قطرہ جو ساغر سے نکل جائے

شراب ناب کا قطرہ جو ساغر سے نکل جائے تڑپ کے دل مرا قابوئے‌ دلبر سے نکل جائے خوشی میں کہہ رہا ہوں آمد آمد ہے جو اس گل کی کوئی کہہ دے کہ ویرانی مرے گھر سے نکل جائے ستاتے ہیں رقیب آ آ کے میں گو چھپ کے بیٹھا ہوں عجب یہ ظلم ہے کوئی کدھر گھر سے نکل جائے اگر سن لے کہ تیرے سخت جاں کی باری ...

مزید پڑھیے

جوش وحشت میرے تلووں کو یہ ایذا بھی سہی

جوش وحشت میرے تلووں کو یہ ایذا بھی سہی ہیں جہاں سو آبلے کچھ خار صحرا بھی سہی دل میں سو باتیں ہیں اک تیری تمنا بھی سہی سر پہ ہیں لاکھ آفتیں اک داغ سودا بھی سہی منہ پہ آنچل لیجئے مجھ سے جو آتا ہے حجاب گر یہی منظور ہے تھوڑا سا پردہ بھی سہی دل میں وقت ذبح ہے حسرت کہ تم کو دیکھ ...

مزید پڑھیے

اگر دلا غم گیسوئے یار بڑھ جاتا

اگر دلا غم گیسوئے یار بڑھ جاتا شب فراق میں اور انتشار بڑھ جاتا جو شوق جنبش مژگان یار بڑھ جاتا ترا مزا خلش نوک خار بڑھ جاتا جو میری چشم کے پردے شریک ہو جاتے کمال دامن ابر بہار بڑھ جاتا وطن میں ہم نہ ہوئے خاک شکر کی جا ہے غبار خاطر اہل دیار بڑھ جاتا دکھائی کیوں نہ مجھے آ کے گرمیٔ ...

مزید پڑھیے

ہائے شرم دلبری اس دل ربا کے ہاتھ ہے

ہائے شرم دلبری اس دل ربا کے ہاتھ ہے اس وفا کی آبرو اوس بے وفا کے ہاتھ ہے جانتا ہے کام بندے کا خدا کے ہاتھ ہے دل مرا کھلنا ترے بند قبا کے ہاتھ ہے آہ گریہ ساتھ ہوں غربت میں جب آتا ہے دھیان بیکسی کہتی ہے یہ آب و ہوا کے ہاتھ ہے کب تک آؤ گے عدم میں پوچھتے ہیں راہرو کس سے کہئے اس طرف آنا ...

مزید پڑھیے

سرخ ہو جاتا ہے منہ میری نظر کے بوجھ سے

سرخ ہو جاتا ہے منہ میری نظر کے بوجھ سے کیا بنے گی زیور گلہائے تر کے بوجھ سے یوں ہوئے ہیں خاک بعد دفن تیرے ناتواں پس گئے ہیں چادر گلہائے تر کے بوجھ سے شرم گو کم ہو گئی پر نازکی کو کیا کریں اب جھکے جاتے ہیں خود اپنی نظر کے کے بوجھ سے اف ری تیری ناتوانی لاغری اللہ رے ضعف ایک ہی کروٹ ...

مزید پڑھیے

نہ چھوڑا دل خستہ جاں چلتے چلتے

نہ چھوڑا دل خستہ جاں چلتے چلتے غضب کر چلے مہرباں چلتے چلتے کہیں گے کچھ اے باغباں چلتے چلتے اگر دے گی یارا زباں چلتے چلتے گرے ہم پس کارواں چلتے چلتے تھکے پاؤں اپنے کہاں چلتے چلتے تری چال باد خزاں نے اڑائی اجاڑا مرا آشیاں چلتے چلتے کرو آنکھیں جھپکا کے ترچھی نگاہیں سنانیں چلیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1647 سے 6203