قومی زبان

سلسلۂ جنبان وحشت میں نئی تدبیر سے

سلسلۂ جنبان وحشت میں نئی تدبیر سے طوق منت کے بدلتے ہیں مری زنجیر سے آپ لے جائیں انہیں یا دل کے ٹکڑے جوڑ دیں میری خاطر جمع ہو جائے کسی تدبیر سے نزع میں بھی کی گئیں ہم پر بہت سی سختیاں سیکڑوں طوفاں اٹھے آب دم شمشیر سے نزع میں ہیں پاؤں میرے کوئے جاناں کی طرف چاہتا ہوں میں پہنچ ...

مزید پڑھیے

خار و خس پھینکے چمن کے راستے جاری کرے

خار و خس پھینکے چمن کے راستے جاری کرے باغباں فصل بہار آنے کی تیاری کرے دل جگر کی یا جگر دل کی عزا داری کرے ایک ہی عالم ہے کس کی کون غم خواری کرے میرے درد عشق سے ایذا ہے ساری خلق کو موت بہتر ہے جب اتنا طول بیماری کرے نزع ہو لیکن نہ سر کے کوچۂ محبوب سے لاکھ ہو بے ہوش پر اتنی تو ...

مزید پڑھیے

ڈر نہیں تھوکتے ہیں خون جو دکھ پائے ہوئے

ڈر نہیں تھوکتے ہیں خون جو دکھ پائے ہوئے لخت دل بن کے نکل جائیں گے غم کھائے ہوئے دم نکلنا ہے دل زار کا ہے حال اخیر نالے آتے ہیں لبوں تک مرے گھبرائے ہوئے یہ بہانہ ہے مرے قتل پہ راضی نہیں تیر غل مچاتی ہے کماں ہاتھوں کو پھیلائے ہوئے ہم تو مر جائیں گے ہر گل پہ عدم میں بھی رشیدؔ جاتے ...

مزید پڑھیے

دلا معشوق جو ہوتا ہے وہ سفاک ہوتا ہے

دلا معشوق جو ہوتا ہے وہ سفاک ہوتا ہے بڑا بے رحم ہوتا ہے بڑا بے باک ہوتا ہے خوشی ہوگی ہلاک اپنا دل صد چاک ہوتا ہے کہاں اب آرزو گھر حسرتوں کا خاک ہوتا ہے تمہاری تیغ مجھ سے چپکے چپکے کہتی جاتی ہے مبارک ہو کہ یہ سر زینت فتراک ہوتا ہے تجھے اللہ نے بخشا ہے کیسا رتبۂ عالی کہ تیرا نقش پا ...

مزید پڑھیے

عقدے الفت کے سب اے رشک قمر کھول دئیے

عقدے الفت کے سب اے رشک قمر کھول دئیے سینہ یوں چاک کیا داغ جگر کھول دیئے سب حسینوں نے مرے قتل پہ کمریں باندھیں ڈورے تلواروں کے اور بند سپر کھول دیئے آ گیا ہوش تری چال کے مشتاقوں کو حشر کی سن کے صدا دیدۂ تر دیئے پائی تاروں نے ضیا بڑھ گئی تاریکئ شب اس نے منہ ڈھانپ کے کانوں کے گہر ...

مزید پڑھیے

مار ڈالے گی ہمیں یہ خوش بیانی آپ کی

مار ڈالے گی ہمیں یہ خوش بیانی آپ کی موت کا پیغام آئے گا زبانی آپ کی زندگی کہتے ہیں کس کو موت کس کا نام ہے مہربانی آپ کی نا مہربانی آپ کی بعد مردن کھینچ لایا جذب دل سینے پہ ہاتھ اک انگوٹھی میں جو پہنے تھا نشانی آپ کی بڑھ چکا قد بھی فروغ حسن کی حد ہو چکی اب تو قابل دیکھنے کے ہے ...

مزید پڑھیے

جو ہوا ہے صورت باد مخالف تیز ہے

جو ہوا ہے صورت باد مخالف تیز ہے دل کا میداں ہے کہ اک صحرائے آفت خیز ہے میرے ساقی دم بہ دم کیوں کر بھرا آئے نہ دل دور ہوں میں اور ساغر بزم میں لبریز ہے دکھ اٹھانے کی بھی آخر ہوتی ہے کچھ انتہا بلبل دل کا مرے نغمہ بھی دردانگیز ہے آمد آمد ہے خزاں کی کیوں نہ روئے عندلیب گل ابھی نو کار ...

مزید پڑھیے

ہم اجل کے آنے پر بھی ترا انتظار کرتے

ہم اجل کے آنے پر بھی ترا انتظار کرتے کوئی وعدہ سچ جو ہوتا تو کچھ اعتبار کرتے جو نہ صبر اور دم بھر ترے بے قرار کرتے ابھی برق کا طریقہ فلک اختیار کرتے اگر اتنی بات سنتے کہ ہے عشق میں مصیبت کبھی ہم نہ تیری خاطر دل بے قرار کرتے دل زار بے خبر تھا کیا قتل تو مزا کیا یہ سپہ گری ہے پہلے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1646 سے 6203