قومی زبان

خزاں کے بے کیف منظروں کا برنگ خوشبو جواب رکھنا

خزاں کے بے کیف منظروں کا برنگ خوشبو جواب رکھنا کسی کی یاد کا اپنے دل میں کوئی مہکتا گلاب رکھنا تم اپنے کردار اور عمل کو بنا کے آئینہ تلفظ حسین لفظوں کی صورتوں میں شناختوں کی کتاب رکھنا اداس چہرہ ہے شام غم کا دھواں دھواں شب اتر رہی ہے ابھی سے کوئی سحر کا منظر نظر میں اپنی جناب ...

مزید پڑھیے

موت بہتر ہے ایسے جینے سے

موت بہتر ہے ایسے جینے سے دل میں کچھ بھی نہیں قرینے سے خشک آنکھیں کہاں جھلکتی ہیں دل میں اترے ہیں کچھ سفینے سے ہم نے کیا چھو لیا تصور میں کھنکھاتے ہیں آبگینے سے ہم کو فرصت نہیں گھڑی بھر کی پیرہن زندگی کا سینے سے ایک لمحہ کا تجربہ بہتر روز و شب سال اور مہینے سے ایک میں تو ہوں ...

مزید پڑھیے

لفظ کوئی زبان سے نکلا

لفظ کوئی زبان سے نکلا تیر جیسے کمان سے نکلا ڈھلتے سورج کو دیکھ کر سایہ میرے ٹوٹے مکان سے نکلا جب بھی منزل مجھے نظر آئی میں سفر کی تکان سے نکلا شام رنگیں کا گمشدہ سورج صبح کے سائبان سے نکلا آدمی کا یقین کیا کیجے اب خدا بھی گمان سے نکلا گھر میں فاقہ تھا جس جس کے چہرے پر گھر سے ...

مزید پڑھیے

دیار خواب میں کوشش ہے پھر سجانے کی

دیار خواب میں کوشش ہے پھر سجانے کی بنا رہا ہوں میں تصویر آشیانے کی ابھی تو صرف بگولے اٹھے خیالوں میں ابھی سے رکنے لگی نبض کیوں زمانے کی شعاعیں دینے لگے ایسا کے اندھیرے بھی نئی ادا ہے چراغوں میں جھلملانے کی محاذ میں نے ہی اپنے خلاف کھولا ہے کہ آ گئی ہے گھڑی خود کو آزمانے ...

مزید پڑھیے

میں کہ خود اپنے ہی اندر ہوا ٹکڑے ٹکڑے

میں کہ خود اپنے ہی اندر ہوا ٹکڑے ٹکڑے یعنی کوڑے میں سمندر ہوا ٹکڑے ٹکڑے اس عمارت کا مقدر ہوا ٹکڑے ٹکڑے جس کی بنیاد میں پتھر ہوا ٹکڑے ٹکڑے کوئی لغزش کسی لمحے سے ہوئی تھی شاید گردش وقت کا محور ہوا ٹکڑے ٹکڑے چڑھتے سورج کی اترتے ہی کرن آنکھوں میں میرے ہر خواب کا منظر ہوا ٹکڑے ...

مزید پڑھیے

جنس گراں کا میں ہوں خریدار دوستو

جنس گراں کا میں ہوں خریدار دوستو آخر کہاں ہے مصر کا بازار دوستو شائستۂ خطا ہیں مری بے گناہیاں ناکردہ جرم کا ہوں سزاوار دوستو ان گمرہان جادہ و منزل کی خیر ہو رہبر نہ کوئی قافلہ سالار دوستو پر پیچ زندگی کی وہ راہیں کہ الاماں یاد آ گیا ہے کاکل خم دار دوستو اب تک تلاش کرتی ہے ...

مزید پڑھیے

یہ بات تری چشم فسوں کار ہی سمجھے

یہ بات تری چشم فسوں کار ہی سمجھے صحرا بھی نظر آئے تو گلزار ہی سمجھے اک بات جسے سن کے حیا آئے چمن کو اک بات جسے نرگس بیمار ہی سمجھے اس طرح دکاں دل کی سجاؤں کہ زمانہ دیکھے تو اسے مصر کا بازار ہی سمجھے کیا شام و سحر اس کی ہے کیا اس کے شب و روز دنیا کو بھی جو کاکل و رخسار ہی ...

مزید پڑھیے

کیا پوچھتے ہو مجھ کو محبت میں کیا ملا

کیا پوچھتے ہو مجھ کو محبت میں کیا ملا دونوں جہاں کا درد بہ نام خدا ملا شاید یہی ہے حاصل پایان آرزو اپنا پتہ نہیں ہے جو ان کا پتا ملا افسانۂ حیات کی تکمیل ہو گئی جب ان کے سلسلے سے مرا سلسلہ ملا جب سے نہیں وہ نغمہ زن ساز زندگی اک ایک تار دل کا مجھے بے صدا ملا تم کیا ملے مژہ کے ضیا ...

مزید پڑھیے

پہلے اتنا تو مرا حال کبھی زار نہ تھا

پہلے اتنا تو مرا حال کبھی زار نہ تھا آہ دل سوز نہ تھی نالہ شرر بار نہ تھا کیوں پشیمان کیا اے دل ناداں ان کو قصۂ خون جگر قابل اظہار نہ تھا ذکر فرہاد سہی قصۂ منصور سہی حسن کس رنگ میں رسوا سر بازار نہ تھا جستجو اس چمن آرا کی لئے پھرتی تھی ورنہ گلشن سے مجھے کوئی سروکار نہ تھا دل کی ...

مزید پڑھیے

اپنوں سے شکایت ہے نہ غیروں سے گلا ہے

اپنوں سے شکایت ہے نہ غیروں سے گلا ہے پہنچے گا جو قسمت میں غم و رنج لکھا ہے کس کی نگہ شوق ہے مشتاق تجلی کیوں جلوۂ پیہم میں وہ ناموس حیا ہے گرتا تو ہوں ساقی کے قدم پر نہیں معلوم یہ سجدۂ رندانہ ہے یا لغزش پا ہے بچتے نہیں دیکھا کبھی مجروح محبت یا رب نگہ ناز ہے یا تیر قضا ہے وہ شوخ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1633 سے 6203