قومی زبان

ان کی نگاہ ناز کے قابل کہیں جسے

ان کی نگاہ ناز کے قابل کہیں جسے وہ جنس معتبر ہو عطا دل کہیں جسے شب خانۂ حیات کی رونق ہے آج تک وہ روشنی فروغ غم دل کہیں جسے کیا ڈھونڈتے ہو رہ رو سرمایۂ سکوں معدوم ہے وہ نقش ہی منزل کہیں جسے اے اضطراب موج و تلاطم ترے سوا وجہ سکوں وہ کون ہے ساحل کہیں جسے دیوانگئ اہل جنوں پر نہ ...

مزید پڑھیے

بازار حسن و شوق میں کمتر نہیں ہوں میں

بازار حسن و شوق میں کمتر نہیں ہوں میں چھو کر مجھے بھی دیکھ کہ خنجر نہیں ہوں میں جس میکدے میں جام اچھالے نہیں گئے اس میکدے میں ہونے سے بہتر نہیں ہوں میں باندھی گئی ہے پیر میں زنجیر کس لیے میں تو ہوں اک خیال کہ پیکر نہیں ہوں میں تازہ رہوں گا قلب و خرد میں ہر ایک وقت جس کو بلا سکو ...

مزید پڑھیے

ڈھونڈتا سکوں میں تھا پایا رنج و غم الٹا

ڈھونڈتا سکوں میں تھا پایا رنج و غم الٹا منزلوں کی خواہش میں رکھ دیا قدم الٹا جاتے جاتے قاصد نے کہہ دیا پتا ان کا ہائے میرے ہاتھوں میں آ گیا قلم الٹا آج گر گلے شکوہ کر رہا تھا وہ لیکن بوجھ میرے سینے کا ہو رہا تھا کم الٹا مجھ کو سارے منظر ہی تب سے الٹے لگتے ہیں زلف یار کو دیکھا جب ...

مزید پڑھیے

اسے تو میری محبت کا پاس تھا ہی نہیں

اسے تو میری محبت کا پاس تھا ہی نہیں وہ رو رہا تھا مگر وہ اداس تھا ہی نہیں ہمارے پاس محبت تھی سو اسے سونپی جو مانگتا وہ رہا میرے پاس تھا ہی نہیں بیان اس نے کہانی ہمارے نام سے کی ہمارے ذہن میں ویسا قیاس تھا ہی نہیں ہمارے پاس جو آیا لہو لہو تھا وہ ہمارے تن پہ بھی کوئی لباس تھا ہی ...

مزید پڑھیے

بیدار ہو گئے ہیں جو خواب گراں سے ہم

بیدار ہو گئے ہیں جو خواب گراں سے ہم آگے نکل گئے ہیں زبان‌ و مکاں سے ہم لگ جائے گی ٹھکانے کبھی خاک زندگی لپٹے رہیں گے گرد پس کارواں سے ہم منزل بھی تھی نگاہ میں گرد و غبار راہ لے کر چلے جو اذن سفر کہکشاں سے ہم اس سنگ آستاں پہ جھکا کر جبین شوق لو بے نیاز ہو گئے دونوں جہاں سے ...

مزید پڑھیے

مکیں اور بھی ہیں مکاں اور بھی ہیں

مکیں اور بھی ہیں مکاں اور بھی ہیں یہی دو جہاں کیا جہاں اور بھی ہیں مقامات دیر و حرم سے گزر کر تری عظمتوں کے نشاں اور بھی ہیں کئے جائیے سعیٔ تسخیر فطرت ابھی راز ہائے نہاں اور بھی ہیں ذرا ختم ہو کر طوق و سلاسل زباں پر لئے داستاں اور بھی ہیں مٹا دو مرا نقش ہستی نہیں غم مری زندگی ...

مزید پڑھیے

پھر راہ دکھا مجھ کو اے مشرب رندانہ

پھر راہ دکھا مجھ کو اے مشرب رندانہ کچھ بحث نہیں اس سے کعبہ ہے کہ بت خانہ خم ہے نہ صبوحی ہے شیشہ ہے نہ پیمانہ کیا جانے کہاں غم ہے تابانیٔ میخانہ اس طرح بھی ہوتی ہے تشہیر وفا اکثر پھرتی ہے صبا لے کر خاکستر پروانہ کی وسعت صحرا کی قدموں نے پذیرائی مجھ سا نہ کوئی ہوگا شائستۂ ...

مزید پڑھیے

کیف نصیب اب کہاں غنچوں کے بھی جمال میں

کیف نصیب اب کہاں غنچوں کے بھی جمال میں کس نے یہ رنگ بھر دیا سادگیٔ خیال میں قطرۂ شبنم حیا غنچہ و گل عرق عرق کیا کیا سمٹ کے آ گیا دامن انفعال میں جرأت اضطراب دل تو نے بتا یہ کیا کیا ان کی بھی بات آ گئی کوشش عرض حال میں کیسی حدیث رنگ و بو ذکر جمال و نور کیا حسن ہی جب نہ آ سکا دائرۂ ...

مزید پڑھیے

دل کو معمور کرو جذب و اثر سے پہلے

دل کو معمور کرو جذب و اثر سے پہلے نقش منزل چمک اٹھیں گے سفر سے پہلے لمحۂ فکر سے ساقی کی مروت کے لئے بزم رنداں میں چلے جام کدھر سے پہلے گرمئ عشق نے بخشا ہے یہ عالم ورنہ حسن بیدار نہ تھا میری نظر سے پہلے رفعتیں کون و مکاں کی بھی سمٹ آتی ہیں کس کو معلوم تھا یہ سجدۂ در سے پہلے دامن ...

مزید پڑھیے

جھک سکے آپ کا یہ سر تو جھکا کر دیکھیں

جھک سکے آپ کا یہ سر تو جھکا کر دیکھیں راہ میں دل ہے کہ پتھر ہے اٹھا کر دیکھیں یہ بھی اک شرط ہے تکمیل حکایت کے لیے حال و مستقبل و ماضی کو ملا کر دیکھیں آبرو حسن کی ہو جائے نہ پامال نظر دیکھنا ہو تو اٹھیں خود سے چھپا کر دیکھیں غیرت زہرہ وشاں رشک قمر ہیں کہ نہیں آؤ ان خاک کے ذروں کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1632 سے 6203