عمود ہو کے افق میں بدل رہے ہیں ستون
عمود ہو کے افق میں بدل رہے ہیں ستون دہل رہی ہے عمارت پگھل رہے ہیں ستون بنا ہی کھوکھلی ٹھہری تو کیا عروج و زوال شکستگی کی علامت میں ڈھل رہے ہیں ستون چھتیں تو گر گئیں شہتیر کی خرابی سے یہ کس کا بوجھ اٹھائے سنبھل رہے ہیں ستون ہوا کے رخ نے نیا مرثیہ لکھا ہے جہاں بھڑک اٹھی ہے وہیں آگ ...