قومی زبان

عمود ہو کے افق میں بدل رہے ہیں ستون

عمود ہو کے افق میں بدل رہے ہیں ستون دہل رہی ہے عمارت پگھل رہے ہیں ستون بنا ہی کھوکھلی ٹھہری تو کیا عروج و زوال شکستگی کی علامت میں ڈھل رہے ہیں ستون چھتیں تو گر گئیں شہتیر کی خرابی سے یہ کس کا بوجھ اٹھائے سنبھل رہے ہیں ستون ہوا کے رخ نے نیا مرثیہ لکھا ہے جہاں بھڑک اٹھی ہے وہیں آگ ...

مزید پڑھیے

کتنی صدیوں سے لمحوں کا لوبان جلتا رہا

کتنی صدیوں سے لمحوں کا لوبان جلتا رہا عمر کا سلسلہ سانس بن کر پگھلتا رہا ناپتا رہ گیا موج سے موج کا فاصلہ وقت کا تیز دریا سمندر میں ڈھلتا رہا بے نشاں منزلیں کس سفر کی کہانی لکھوں تھک گئی سوچ ہر موڑ پر ذہن جلتا رہا اجنبی راستوں کی طرف یوں نہ بڑھتے قدم گرد بن کر کئی میرے ہم راہ ...

مزید پڑھیے

ریت تنہائی فاصلہ صحرا

ریت تنہائی فاصلہ صحرا کون سی بھوک دے گیا صحرا اس کی آنکھوں میں بولتی ندیاں میرے کانوں میں گونجتا صحرا بدلیوں نے لٹیں نچوڑی تھیں پیاسا پیاسا مگر رہا صحرا سبز شادابیوں کے بدلے میں کون قسمت میں لکھ گیا صحرا بین کرتی ہوا مقید ہے شہر ماتم ہے ذات کا صحرا

مزید پڑھیے

ہمارے خواب ہماری پسند ہوتے گئے

ہمارے خواب ہماری پسند ہوتے گئے ہم اپنے آئینہ خانوں میں بند ہوتے گئے یہ کیا ہوا کہ بہ ایں جسم اس سے ملتے رہے مگر فراق کے صدمے دو چند ہوتے گئے ہر ایک فتح پہ مغرور ہو رہا تھا وہ ہر اک شکست پہ ہم خود پسند ہوتے گئے ہم ایسے بکھرے کہ اپنے ہی کام نہ آ سکے کسی کے حق میں مگر سود مند ہوتے ...

مزید پڑھیے

رات کی ساری حقیقت دن میں عریاں ہو گئی

رات کی ساری حقیقت دن میں عریاں ہو گئی خواب کی تعبیر پڑھ کر آنکھ حیراں ہو گئی ہر نفس سیل حوادث ہر قدم امواج غم زندگی اس دور میں طوفاں ہی طوفاں ہو گئی آرزو در آرزو بڑھتی گئیں محرومیاں ہر تمنا رفتہ رفتہ دشمن جاں ہو گئی کتنی بے معنی رفاقت ابر کے ٹکڑوں میں تھی دیکھ کر میرے گھروندے ...

مزید پڑھیے

آ تجھ کو خیال میں بساؤں

آ تجھ کو خیال میں بساؤں سوئے ہوئے درد کو جگاؤں دل پھٹنے لگا ہے یاد محبوب آ تجھ کو ہی اب گلے لگاؤں جز تیرے نہ سن سکے کوئی بھی اس لے میں تجھے میں گنگناؤں اے نغمہ طراز جسم موزوں مصرع کی طرح تجھے اٹھاؤں جو گزرا ہے تیری خلوتوں میں کیسے وہ زمانہ بھول جاؤں ہو بس میں مرے تو سنگ دل ...

مزید پڑھیے

ہم سکوں پائیں گے سلماؤں میں کیا

ہم سکوں پائیں گے سلماؤں میں کیا خوشبوؤں کا قحط ہے گاؤں میں کیا کم نہیں گہرے سندر سے جو دل وہ بھلا ڈوبے گا دریاؤں میں کیا ہر طرف روشن ہیں یادوں کے کلس گھر گئے ہیں ہم کلیساؤں میں کیا جن کی آنکھوں میں ہے نیندوں کا غبار روشنی پائیں گے صحراؤں میں کیا رات دن قرنوں سے ہوں گرم سفر ایک ...

مزید پڑھیے

اشک یوں بہتے ہیں ساون کی جھڑی ہو جیسے

اشک یوں بہتے ہیں ساون کی جھڑی ہو جیسے یا کہیں پہلے پہل آنکھ لڑی ہو جیسے کتنی یادوں نے ستایا ہے مری یاد کے ساتھ غم دوراں غم جاناں کی کڑی ہو جیسے بوئے کاکل کی طرح پھیل گیا شب کا سکوت تیری آمد بھی قیامت کی گھڑی ہو جیسے یوں نظر آتے ہیں اخلاص میں ڈوبے ہوئے دوست دشمنوں پر کوئی افتاد ...

مزید پڑھیے

ہر ایک گھر کا دریچہ کھلا ہے میرے لیے

ہر ایک گھر کا دریچہ کھلا ہے میرے لیے تمام شہر ہی دامن کشا ہے میرے لیے ہر ایک ترشے ہوئے جسم میں ہے آنچ تری ہر ایک بت کدہ آتش کدہ ہے میرے لیے بلائے جاں ہیں یہ گہرائیاں سمندر کی عذاب عشرت قطرہ بنا ہے میرے لیے میں ایک کھیل سمجھتا تھا درد الفت کو تمام عمر کا اب رتجگا ہے میرے ...

مزید پڑھیے

حسن پابند حنا ہو جیسے

حسن پابند حنا ہو جیسے یہ وفاؤں کا صلہ ہو جیسے یوں وہ کرتے ہیں کنارا مجھ سے اس میں میرا ہی بھلا ہو جیسے طعنہ دیتے ہیں مجھے جینے کا زندگی میری خطا ہو جیسے اس طرح آنکھ سے ٹپکا ہے لہو شاخ سے پھول گرا ہو جیسے سر کہسار وہ بادل گرجا دل دھڑکنے کی صدا ہو جیسے حال دل پوچھتے ہو یوں مجھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1599 سے 6203