دل کی دھڑکن کے پیامات سے ڈر جاتے ہیں
دل کی دھڑکن کے پیامات سے ڈر جاتے ہیں عمر ایسی ہے کہ ہر بات سے ڈر جاتے ہیں خشک پتو نہ گرو ٹھہرے رہو شاخوں پر وہ اندھیروں کی ملاقات سے ڈر جاتے ہیں
دل کی دھڑکن کے پیامات سے ڈر جاتے ہیں عمر ایسی ہے کہ ہر بات سے ڈر جاتے ہیں خشک پتو نہ گرو ٹھہرے رہو شاخوں پر وہ اندھیروں کی ملاقات سے ڈر جاتے ہیں
آج پنگھٹ پر اس طرح تھی بھیڑ ہر طرف لڑکیوں کا ریلا تھا ایک آتی تھی ایک جاتی تھی جیسے ساون میں تیج میلہ تھا
اس بھرے شہر میں ہر چیز کی قیمت ٹھہری درد بک جاتے ہیں جذبات بکا کرتے ہیں جگمگاتے ہوئے سکوں کے عوض دنیا میں کتنے شاعر ہیں جو دن رات بکا کرتے ہیں اک ترا شاعر خوددار نہیں بک سکتا میری محبوب ترا پیار نہیں بک سکتا میرے خاکوں میں ترے حسن کی تصویریں ہیں جنبش زلف تری جنبش لب تیری ہے میرا ...
رات آتے ہی مجھے خود سے بھی ڈر لگتا ہے پیڑ چلتے ہیں ہواؤں سے صدا آتی ہے میری تنہائی کی خاموش فضا گاتی ہے روشنی جاگنے لگتی ہے سیہ خانے میں جان پڑ جاتی ہے بھولے ہوئے افسانے میں آنے لگتی ہیں کئی اجنبی مہکاریں سی گونجنے لگتی ہیں پازیب کی جھنکاریں سی ہاتھ میں وقت کے ہوتا ہے مسرت کا ...
میں نا ماکھن کھایو میا میں نا ماکھن چور ملا کھا گئے پنڈت کھا گئے کھا گئے رشوت خور کہنے کو آزاد ہیں ہم پر کیسی یہ آزادی ہر کٹیا نردھن کا بندھن ہر نگری بربادی بھوکے دیس میں ہر دن بڑھتی بھوکوں کی آبادی میں نا ماکھن کھایو میا میں نا ماکھن چور ملا کھا گئے پنڈت کھا گئے کھا گئے رشوت ...
بعد مدت چلے آئے کیسے ادھر آج کس طرح میرا خیال آ گیا ٹھہرو رک جاؤ رشتہ ہے کچھ مجھ سے بھی کچھ دنوں کا نہیں ربط دیرینہ ہے نقش پا میں تمہارے لیے بیٹھا ہوں راز سینے میں ہے لب سیئے بیٹھا ہوں ایسے گزرے ہو پہچانتے ہی نہیں تم تو جیسے مجھے جانتے ہی نہیں رک گیا اور کچھ سوچ کر کھو گیا دور اپنے ...
دور گھاٹی سے سر اٹھا کے شفق ذرے ذرے پہ مسکراتی ہے جیسے چپ چاپ کوئی شوخ کلی چھپ کے سبزے پہ لیٹ جاتی ہے
بیٹھی سکھیوں کے گھیرے میں دلہن ظاہراً تو بہت لجاتی ہے چور آنکھوں سے دیکھ کر کنگن اپنے ساجن کا درش پاتی ہے
حیران ہوں دو آنکھوں سے کیا دیکھ رہا ہوں ٹوٹے ہوئے ہر دل میں خدا دیکھ رہا ہوں نظروں میں تری رنگ نیا دیکھ رہا ہوں ہاتھوں میں بھی کچھ رنگ حنا دیکھ رہا ہوں رخ ان کا کہیں اور نظر اور طرف ہے کس سمت سے آتی ہے قضا دیکھ رہا ہوں پھر لائی ہے برسات تری یاد کا موسم گلشن میں نیا پھول کھلا دیکھ ...
ظلم کی رات بہت جلد ٹلے گی اب تو آگ چولہوں میں ہر اک روز جلے گی اب تو بھوک کے مارے کوئی بچہ نہیں روئے گا چین کی نیند ہر ایک شخص یہاں سوئے گا آندھی نفرت کی چلے گی نہ کہیں اب کے برس پیار کی فصل اگائے گی زمیں اب کے برس ہے یقیں اب نہ کوئی شور شرابہ ہوگا ظلم ہوگا نہ کہیں خون خرابا ہوگا اوس ...