حسن جو رنگ خزاں میں ہے وہ پہچان گیا
حسن جو رنگ خزاں میں ہے وہ پہچان گیا فصل گل جا مرے دل سے ترا ارمان گیا تو خداوند محبت ہے میں پہچان گیا دل سا ضدی تری نظروں کا کہا مان گیا آئنہ خانہ سے ہوتا ہوا حیران گیا خود فراموش ہوا جو تمہیں پہچان گیا اب تو مے خانۂ الفت میں چلا آیا ہوں اس سے کیا بحث رہا یا میرا ایمان گیا اپنے ...