قومی زبان

حسن جو رنگ خزاں میں ہے وہ پہچان گیا

حسن جو رنگ خزاں میں ہے وہ پہچان گیا فصل گل جا مرے دل سے ترا ارمان گیا تو خداوند محبت ہے میں پہچان گیا دل سا ضدی تری نظروں کا کہا مان گیا آئنہ خانہ سے ہوتا ہوا حیران گیا خود فراموش ہوا جو تمہیں پہچان گیا اب تو مے خانۂ الفت میں چلا آیا ہوں اس سے کیا بحث رہا یا میرا ایمان گیا اپنے ...

مزید پڑھیے

جنوں میں گم ہوئے ہشیار ہو کر

جنوں میں گم ہوئے ہشیار ہو کر ہمیں نیند آ گئی بیدار ہو کر متاع اصل ہاتھوں سے گنوا دی خراب اندک و بسیار ہو کر ہمیں نے کی تھی صیقل اس نظر پر ہمیں پر گر پڑی تلوار ہو کر جو غنچہ سو رہا تھا شاخ گل پر پریشاں ہو گیا بیدار ہو کر در مقصود بس اک دو قدم تھا کہ رشتہ رہ گیا دیوار ہو کر نہ آئے ...

مزید پڑھیے

اس کو بھی ہم سے محبت ہو ضروری تو نہیں

اس کو بھی ہم سے محبت ہو ضروری تو نہیں عشق ہی عشق کی قیمت ہو ضروری تو نہیں ایک دن آپ کی برہم نگہی دیکھ چکے روز اک تازہ قیامت ہو ضروری تو نہیں میری شمعوں کو ہواؤں نے بجھایا ہوگا یہ بھی ان کی ہی شرارت ہو ضروری تو نہیں اہل دنیا سے مراسم بھی برتنے ہوں گے ہر نفس صرف عبادت ہو ضروری تو ...

مزید پڑھیے

یگانہ بن کے ہو جائے وہ بیگانہ تو کیا ہوگا

یگانہ بن کے ہو جائے وہ بیگانہ تو کیا ہوگا جو پہچانا تو کیا ہوگا نہ پہچانا تو کیا ہوگا کسی کو کیا خبر آنسو ہیں کیوں چشم محبت میں فغاں سے گونج اٹھے گا جو ویرانہ تو کیا ہوگا ہماری سی محبت تم کو ہم سے ہو تو کیا گزرے بنا دے شمع کو بھی عشق پروانہ تو کیا ہوگا یہی ہوگا کہ دنیا عقل کا ...

مزید پڑھیے

الجھنوں میں کیسے اطمینان دل پیدا کریں

الجھنوں میں کیسے اطمینان دل پیدا کریں بجلیوں میں رہ کے تنکوں کا بھروسہ کیا کریں ضبط آنسو جب کئے تو اچھلا چہرے پر لہو غم کی موجیں روکنے سے راستہ پیدا کریں کہتے ہیں قصہ زمانے سے یہی تشویش ہے سی لئے ہیں لب مگر ان آنسوؤں کو کیا کریں ہم بھی بندے ہیں ہمیں بھی مقدرت اتنی تو ہے وہ خدا ...

مزید پڑھیے

جوانی زندگانی ہے نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے

جوانی زندگانی ہے نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے یہ اک ایسی کہانی ہے نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے ہمارے اور تمہارے واسطے میں اک نیا پن تھا مگر دنیا پرانی ہے نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے عیاں کر دی ہر اک پر ہم نے اپنی داستان دل یہ کس کس سے چھپانی ہے نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے جہاں دو دل ملے دنیا نے ...

مزید پڑھیے

غالباً میرے علاوہ کوئی گزرا بھی نہیں

غالباً میرے علاوہ کوئی گزرا بھی نہیں تیری منزل میں کہیں نقش کف پا بھی نہیں آپ کی راہ میں دنیا نظر آتی ہے مجھے اک قدم اور جو بڑھ جاؤں تو دنیا بھی نہیں آپ کیا سوچ کے غم اپنا عطا کرتے ہیں ہمت دل تو بہ قدر غم دنیا بھی نہیں تم تو بے مثل ہو توحید محبت کی قسم تم سا کیا ہوگا جہاں میں کوئی ...

مزید پڑھیے

اس رنگ میں اپنے دل ناداں سے گلہ ہے

اس رنگ میں اپنے دل ناداں سے گلہ ہے جیسے ہمیں کل عالم امکاں سے گلہ ہے کس آنکھ نے سمجھا مری بے بال و پری سے جو کچھ مجھے دیوار گلستاں سے گلہ ہے آ خنجر دل دار مرے دل کو سنا دے شاید تجھے کچھ میری رگ جاں سے گلہ ہے چھوڑا ہے کہاں ساتھ مرے دست جنوں کا کم مائیگیٔ دامن امکاں سے گلہ ہے کہتے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1492 سے 6203