مجھ کو تو آپ مرے خواب میں مل جائیں گے
مجھ کو تو آپ مرے خواب میں مل جائیں گے نیند اکثر مری پلکوں سے گلا کرتی ہے آپ بھی دیکھا کریں اپنے تصور میں مجھے خواب سے خواب کی تعبیر ملا کرتی ہے
مجھ کو تو آپ مرے خواب میں مل جائیں گے نیند اکثر مری پلکوں سے گلا کرتی ہے آپ بھی دیکھا کریں اپنے تصور میں مجھے خواب سے خواب کی تعبیر ملا کرتی ہے
ناؤ کاغذ کی سہی کچھ تو نظر سے گزرے اس سے پہلے کہ یہ پانی مرے سر سے گزرے پھر سماعت کو عطا کر جرس گل کی صدا قافلہ پھر کوئی اس راہ گزر سے گزرے کوئی دستک نہ صدا کوئی تمنا نہ طلب ہم کہ درویش تھے یوں بھی ترے در سے گزرے غیرت عشق تو کہتی ہے کہ اب آنکھ نہ کھول اس کے بعد اب نہ کوئی اور ادھر ...
پیار کہنے کی بات ہوتی ہے بات یہ بے ثبات ہوتی ہے دن اگر مشغلوں میں گزرے بھی تیری یادوں میں رات ہوتی ہے روز تو دور ہوتا جاتا ہے روز تجھ سے ہی بات ہوتی ہے معجزہ ہے تری نگاہوں کا موت کی روز مات ہوتی ہے جسم کتنا بھی چاہے چھلنی ہو درد دل سے نجات ہوتی ہے اے مری موت تو جو ساتھ ...
صباؔ یہ ان سے کہو کہ مجھ پہ نوازشیں بے حساب لکھنا مرے مقدر میں نیند لکھنا نہ رات لکھنا نہ خواب لکھنا وہ روشنائی کہاں سے لاؤں میں ایسے کاتب کہاں سے ڈھونڈوں بہت کٹھن ہے گلاب چہروں پہ داستان عذاب لکھنا میں دھوپ صحرا میں ڈوب جانے کی آرزو میں تڑپ رہی ہوں مرے نصیبوں میں پیاس لکھنا ...
ہم جو کافر ہیں سب کی نظروں میں سیڑھیاں مسجدوں کی چڑھتے ہیں کون جانے وہ مل ہی جائے ہمیں آج ہم بھی نماز پڑھتے ہیں
دل میں لے کر ہم آس پھرتے رہے ہم خوشی میں اداس پھرتے رہے تو رہی دور دور ہم سے مگر ہم ترے آس پاس پھرتے رہے
زندگی تو نے کہانی دے دی باتوں باتوں میں نشانی دے دی رخ رنگیں سے اڑا کر آنچل سارے موسم کو جوانی دے دی
کہہ رہی ہے روش کی تابانی دیکھے بھالے ادھر سے گزرے ہیں آ صبا ہم بھی اس طرف سے چلیں حسن والے ادھر سے گزرے ہیں
حال کا لمحہ لمحہ چھلنی ہے وقت کو راہ سے ہٹاتا ہوں دیکھو شاید پلٹ کے تم مجھ کو لو میں ماضی میں لوٹ جاتا ہوں
دن گزرتا ہے ان کی یادوں میں روشن اشکوں سے رات کرتا ہوں میں تو کہتا نہیں ہوں شعر کبھی دل کے زخموں سے بات کرتا ہوں