قومی زبان

گھٹن

دانے بکھیرنے میں تو بہک گیا تھا ہاتھ وہ اور آب کی روانی بھی نشیب کو ہی چل پڑی تقسیم آسمان کی ویسے تو خیر جو بھی تھی لیکن ہوا تو دہر میں تقسیم برابری سے کی تو بھوک میری ٹھیک ہے اور پیاس کا جواز بھی لیکن یہ میری زیست میں گھٹن کہاں سے آ گئی

مزید پڑھیے

وہ بے گناہی ہماری معاف کرتا ہے

وہ بے گناہی ہماری معاف کرتا ہے نہ فیصلہ ہی ہمارے خلاف کرتا ہے سجائے رکھتا ہے خواب و خیال کی دنیا حقیقتوں کا وہ کب اعتراف کرتا ہے یہ ایچ پیچ اگر اور مگر یہ تاویلیں جو صاف دل ہو وہ باتیں بھی صاف کرتا ہے جو اپنی روح کے اسرار سے نہیں واقف وہ میرے بارے میں کیا انکشاف کرتا ہے جو حکم ...

مزید پڑھیے

کیا ہے خود ہی گراں زیست کا سفر میں نے

کیا ہے خود ہی گراں زیست کا سفر میں نے کتر لیے تھے کبھی اپنے بال و پر میں نے یوں اپنی ذات میں اب قید ہو کے بیٹھا ہوں خود اپنے گرد اٹھائے تھے بام و در میں نے بدل گئے خط و معنی کئی زبانوں کے جب اعتراف جنوں کر لیا ہنر میں نے تو میری تشنہ لبی پر سوال کرتا ہے سمندروں پہ بنایا تھا اپنا ...

مزید پڑھیے

رستے لپیٹ کر سبھی منزل پہ لائے ہیں

رستے لپیٹ کر سبھی منزل پہ لائے ہیں کھوے سفر ہی باندھ کے ساحل پہ لائے ہیں پہلے تو ڈھونڈ ڈھانڈ کے لائے وجود کو اور پھر ہنکا کے ذات کو محمل پہ لائے ہیں اٹھتی ہے ہر فرات میں اک موج اضطراب جب بھی وہ کارواں رہ قاتل پہ لائے ہیں ساحل کی ریت سے کبھی جس کی بنی نہیں اس کو سمندروں کے مقابل ...

مزید پڑھیے

ساعت ہجر جب ستاتی ہے

ساعت ہجر جب ستاتی ہے وقت کی نبض رک سی جاتی ہے چیزیں اپنی جگہ پہ رہتی ہیں تیرگی بس انہیں چھپاتی ہے شور میں جو صدائیں دب جائیں خامشی پھر وہی سناتی ہے دھوپ کی آنچ ہے جو رات گئے چاندنی بن کے مسکراتی ہے حسن شاید اسی کو کہتے ہیں جب نظر لوٹ لوٹ جاتی ہے وہ مری جیت تیرے نام سے تھی ہاں ...

مزید پڑھیے

میں دوست سے نہ کسی دشمنی سے ڈرتا ہوں

میں دوست سے نہ کسی دشمنی سے ڈرتا ہوں بس اس زبان کی بے پردگی سے دبتا ہوں میں دور دور سے خود کو اٹھا کے لاتا رہا کہ ٹوٹ جاؤں تو پھر دور تک بکھرتا ہوں یہ سب اشارے مرے کام کیوں نہیں آتے یقیں کی مانگ کو رسم گماں سے بھرتا ہوں میں اتنی دور نکل آیا شہر ہستی سے خود اپنی ذات سے اکثر لپٹ کے ...

مزید پڑھیے

میں زندہ ہوں

میں سنتا ہوں سو زندہ ہوں میں سونگھوں ہوں سو زندہ ہوں اور لمس بھی زندہ ہے میرا حیرانی اب تک باقی ہے ہے میری بصیرت اب بھی جواں اور چکھنے سے پرہیز کہاں پر سوچنا مجھ کو دوبھر ہے کہ سوچ کی راہیں مشکل ہیں جو سوچتے ہیں کب جیتے ہیں یا زہر کا پیالہ پیتے ہیں یا صدمے سے مر جاتے ہیں میں زندہ ...

مزید پڑھیے

لاکھ تقدیر پہ روئے کوئی رونے والا

لاکھ تقدیر پہ روئے کوئی رونے والا صرف رونے سے تو کچھ بھی نہیں ہونے والا بار غم گل ہے کہ پتھر ہے یہ موقوف اس پر کس سلیقے سے اسے ڈھوتا ہے ڈھونے والا کوئی تدبیر یا تعویذ نہیں کام آتی حادثہ ہوتا ہے ہر حال میں ہونے والا تو ہے شاعر تجھے ہرگز نہ سہائے رونا تیرا ہر اشک ہے گیتوں میں ...

مزید پڑھیے

پہلے تو جستہ جستہ بھول گیا

پہلے تو جستہ جستہ بھول گیا اور پھر سارا رستہ بھول گیا بن رہا تھا میں جال خوابوں کا باہر آنے کا رستہ بھول گیا شہر دل سے چلا گیا اک شخص آئینہ اک شکستہ بھول گیا ہاں خریدا تھا عشق کا سودا وہ تھا مہنگا کہ سستا بھول گیا مکتب عشق آ گیا ہوں میں دل ناداں کا بستہ بھول گیا حسن کی بارگاہ ...

مزید پڑھیے

فصیل ذات میں در تو تری عنایت ہے

فصیل ذات میں در تو تری عنایت ہے پر اس میں آمد وحشت مری اضافت ہے جب آئینے در و دیوار پر نکل آئیں تو شہر ذات میں رہنا بھی اک قیامت ہے میں اپنے سارے سوالوں کے جانتا ہوں جواب مرا سوال مرے ذہن کی شرارت ہے ذرا سی دیر تو موسم یہ آرزو کا رہے ابھی بھی قلب و جگر میں ذرا حرارت ہے میں اپنی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1441 سے 6203