قومی زبان

اچھا خاصا حساب ہوں میں بھی

اچھا خاصا حساب ہوں میں بھی دشمنی کا جواب ہوں میں بھی میرے اندر ہے اک جہاں دیکھو فکر و فن کی کتاب ہوں میں بھی مجھ سے باقی ہے رونق گلشن اک مہکتا گلاب ہوں میں بھی ایک تو ہی نہیں زمانے میں تجھ سا خانہ خراب ہوں میں بھی صبح ہوتے ہی ختم ہو جائے ایسی شبنم کا خواب ہوں میں بھی ناقدو اک ...

مزید پڑھیے

فرجام

تم مری کھوج میں یوں ہی تاریک غاروں مٹھوں معبدوں خانقاہوں میں گھٹ گھٹ کے مر جاؤ گے میں نہیں مل سکوں گا تمہیں اب کبھی دھرم میں سنگھ میں دھیان میں گیان میں نیلے ساگر کی تہہ میں اتر کر برازیل کے جنگلوں میں بھٹک کر ہمالہ کی چوٹی پہ چڑھ کر مجھے تم نہ آواز دو پاس کو تیاگ کر آس کے بام ...

مزید پڑھیے

ایک پرانی نظم

کچھ نہیں جانتا کس طرح آ گیا میں ہوا کے بھیانک طلسمات میں کوکھ سے جن کی تولید پاتے ہیں بالشتیے روز و شب ہر گھڑی مجھ میں در آتے ہیں بے اجازت کھلی دیکھ کر کھڑکیاں اور در موت اور زندگی ان کا ایک کھیل ہے کیونکہ ہر ایک بالشتیہ موت سے قبل جاں سونپ جاتا ہے اپنے کسی جانشیں (دوسرے) کو دوسرا ...

مزید پڑھیے

ایک بار پھر

ایک بار پھر فقیروں کا بھیس لیے میرے در پر عیار آ کھڑے ہوئے ہیں یہ وہی تو ہیں جو ایک بار پہلے مجھ سے میرا نقش لے کر ہاتھوں میں تھما گئے تھے جنت کا ایک حسین ٹکڑا جو ان کے جاتے ہی دوزخ بن گیا تھا چند سال بعد وہ مجھ سے ایک اور نقش لے کر اس کے بدلے دے گئے تھے ایک سمندر جو اس دوزخ کو بجھا ...

مزید پڑھیے

عذابوں کا شہر

یہ عذابوں کا شہر ہے یہاں خود کو بچانے کے تمام حربے بے کار ثابت ہوتے ہیں جب تم سو رہے ہوگے کوئی تمہاری ٹانگیں چرا لے جائے گا اور جب تم اپنے پڑوسی سے ٹانگیں ادھار لے کر پولس تھانے رپورٹ لکھوانے کے لیے پہنچو گے تو تھانے دار رشوت میں تمہاری آنکھوں کا مطالبہ کرے گا جن کے دینے سے انکار ...

مزید پڑھیے

الفاظ کی ولادت

اس نے رمتے جوگی کے آگے روٹیاں رکھ دیں اور بہتے پانی کے سامنے ایک دیوار کھڑی کر کے فاتحانہ انداز میں کہا: دیکھو! میں نے دونوں کو روک دیا ہے اور اب تمہاری باری ہے یہ کہہ کر اس نے میرے تمام رنگ کیچڑ میں الٹ دیے میں نے دوڑ کر قلم اٹھانا چاہا لیکن اس نے میرے ہاتھوں کے پہونچے اتروا ...

مزید پڑھیے

اور کچھ چارہ نہیں

مانس کی فصلیں جواں ہو کر پریشاں ہو گئی ہیں ہوا کی سلطنت میں ہلتے رہنے کے علاوہ اور کچھ چارہ نہیں ہے کر کے تخلیق بتا دو لوگو مانس کے پیڑ لگا دو لوگو چھین لو ساری چمک ہاتھوں سے اور پھر ان میں عصا دو لوگو جب بھی طوفاں کوئی اٹھنا چاہے ریت میں اس کو دبا دو لوگو تنگ تہہ خانوں سے باہر ...

مزید پڑھیے

جسم پر کھردری سی چھال اگا

جسم پر کھردری سی چھال اگا آنکھ کی پتلیوں میں بال اگا تیر برسا ہی چاہتے ہیں سنبھل اپنے ہاتھوں میں ایک ڈھال اگا کاٹ آگاہیوں کی فصل مگر ذہن میں کچھ نئے سوال اگا دوش و فردا کو ڈال گڈھے میں کھاد سے ان کی روز حال اگا بڑھی جاتی ہیں مانس کی فصلیں ان زمینوں پہ کچھ اکال اگا چکھ چکا ...

مزید پڑھیے

وہ چیر کے آکاش زمیں پر اتر آیا

وہ چیر کے آکاش زمیں پر اتر آیا جلتا ہوا سورج مری آنکھوں میں در آیا لہروں نے کئی بار مرے در پہ دی دستک پھر ساتھ مجھے لینے سمندر ادھر آیا وہ زیست کے اس پار کی تھاہ لینے گیا تھا پر لوٹ کے اب تک نہ مرا ہم سفر آیا فرصت ہو تو یہ جسم بھی مٹی میں دبا دو لو پھر میں زماں اور مکاں سے ادھر ...

مزید پڑھیے

پھر سے لہو لہو در و دیوار دیکھ لے

پھر سے لہو لہو در و دیوار دیکھ لے جو بھی دکھائے وقت وہ ناچار دیکھ لے اپنے گلے پہ چلتی چھری کا بھی دھیان رکھ وہ تیز ہے یا کند ذرا دھار دیکھ لے پھر چھوٹنے سے پہلے ہی اپنے وجود کو موجود بچپنوں میں گرفتار دیکھ لے گھستا چلا ہے پیٹ میں ہر آدمی کا سر تجھ سے بھی ہو سکے گا نہ انکار دیکھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1433 سے 6203