قومی زبان

ایک وصیت

دونوں ہاتھوں میں ننگی تلواریں سونت کر میں اندھیرے پر ٹوٹ پڑا اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دینا چاہا لیکن اس نے میرا ہر وار خالی کر دیا میں نے ہاتھ میں بندوق اٹھا لی اور اس پر دیوانہ وار گولیاں برسانے لگا سوچا تھا، اس کا جسم چھلنی کر ڈالوں گا لیکن اس میں ایک بھی سوراخ نہ کر سکا پھر میں نے مشعل ...

مزید پڑھیے

بچپن کی آنکھیں

بچپن کی آنکھیں سڑک کے کنارے کھڑی روتی ہیں سراسیمگی کے عالم میں اپنے جوتے اور چپلیں چھوڑ کر بھاگنے والوں کی دہشت اور حیرانیاں ان میں سرایت کر چکی ہیں بچپن کی آنکھیں حیران ہیں کہ گھروں کو آگ لگانے والوں اور ان کے اندر پھنسے ہوئے خوف زدہ لوگوں کا درمیانی رشتہ ان کی سمجھ میں نہیں ...

مزید پڑھیے

انہیں کہہ دو

سیڑھیاں چڑھتی ہوئی نبضوں کو روکو اوپری منزل پہ گھبرایا ہوا اک حافظہ تشکیک کے محور پہ کل شب سے مسلسل گھومتا ہے اس سے ناواقف نہیں ہم تم مگر پانی کی شاخوں میں پھنسے الفاظ دھرتی پر نہیں گرتے انہیں کہہ دو کہ بچپن سے الجھ کر جب بھی آنکھوں کے کنارے ریت کا کوئی گھروندا ٹوٹ جاتا ہے تو ...

مزید پڑھیے

الفاظ الفاظ ہی ہیں

سارے الفاظ الفاظ الفاظ الفاظ الفاظ ہی ہیں دھویں سے لکھے اک بیاباں کے اندھ کار کے درمیاں بیاباں کے اندھ کاری کے درمیاں نیند کی نیلی نیلی سرنگیں کہاں کہاں کوئی ہمسائیگی خون کی سر خوشی دھرم اخلاق تہذیب انسانیت راج نیتی محبت سماج اور جمہوریت نیایے دستور رشتے دوست بھائی بہن باپ ...

مزید پڑھیے

اس اہتمام سے پروانے پیشتر نہ جلے

اس اہتمام سے پروانے پیشتر نہ جلے طواف شمع کریں اور کسی کے پر نہ جلے ہوا ہی ایسی چلی ہے ہر ایک سوچتا ہے تمام شہر جلے ایک میرا گھر نہ جلے ہمیں یہ دکھ کہ نمود سحر نہ دیکھ سکے سحر کو ہم سے شکایت کہ تا سحر نہ جلے چراغ شہر نہیں ہم چراغ صحرا ہیں کسے خبر کہ جلے اور کسے خبر نہ جلے تری ...

مزید پڑھیے

پلنگ پر جو کتاب و سنان رکھ دے گا

پلنگ پر جو کتاب و سنان رکھ دے گا نئے سفر کے لیے کچھ نشان رکھ دے گا نشانہ باندھے گا وہ پشت پر مگر جوں ہی پلٹ کے دیکھو گے ہنس کر کمان رکھ دے گا خود اس کی ذات ابھی گولیوں کی زد پر ہے وہ کیسے شہر میں امن و امان رکھ دے گا بگڑ گیا تو جنونی لہو بھی پی لے گا جو خوش ہوا تو وہ قدموں پہ جان رکھ ...

مزید پڑھیے

دروازے کو پیٹ رہا ہوں پیہم چیخ رہا ہوں

دروازے کو پیٹ رہا ہوں پیہم چیخ رہا ہوں اندر آ کر کھل جا سم سم کہنا بھول گیا ہوں کھوج میں تیری ان گن ٹرامیں اور بسیں چھانی ہیں کولتار کی سڑکوں پر میلوں پیدل گھوما ہوں بے پایاں آکاش کے مقناطیسی جال سے بچ کر خوف زدہ سا میں دھرتی کے سینے سے چمٹا ہوں برسوں پہلے بکھر گئی تھی ٹوٹ کے جو ...

مزید پڑھیے

گرچہ سہل نہیں لیکن تیرے کہنے پر لاؤں گا

گرچہ سہل نہیں لیکن تیرے کہنے پر لاؤں گا کاٹ کے اپنے ہاتھوں میں اب اپنا ہی سر لاؤں گا جس میں ہوں تیار کھڑی ہر سمت سرابوں کی فصلیں اپنے کندھوں پر وہ ریگستان اٹھا کر لاؤں گا قوس قزح کے رنگوں سے تیار کروں گا نقش نیا رہ جاؤ انگشت بدنداں ایسا منظر لاؤں گا ان کی یاد میں بہتے آنسو خشک ...

مزید پڑھیے

بستر بچھا کے رات وہ کمرے میں سو گیا

بستر بچھا کے رات وہ کمرے میں سو گیا سبزہ پہ موسموں کا لہو خشک ہو گیا گم نام دن کی پچھلی قطاروں کا فاصلہ آواز کی حدوں سے بہت دور ہو گیا بائیں طرف کے راستے سانسوں میں بٹ گئے اگلے قدم کی چاپ پہ وہ خون رو گیا سورج کا ظلم سر کو جھلستا رہا مگر دن دھوپ کے اتھاہ سمندر کو ڈھو گیا سڑکوں ...

مزید پڑھیے

منہ آنسوؤں سے اپنا عبث دھو رہے ہو کیوں

منہ آنسوؤں سے اپنا عبث دھو رہے ہو کیوں ہنستے جہان بیچ کھڑے رو رہے ہو کیوں آ جاؤ اپنے مکھ سے مکھوٹا اتار کر! بہروپیوں کے ساتھ سمے کھو رہے ہو کیوں کیا اس سے ہوگا روح کے زخموں کو فائدہ ٹوٹے دلوں کی سن کے صدا رو رہے ہو کیوں اس گھومتی زمین کا محور ہی توڑ دو بے کار گردشوں پہ خفا ہو رہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1434 سے 6203