قومی زبان

ہر مرحلۂ شوق سے لہرا کے گزر جا

ہر مرحلۂ شوق سے لہرا کے گزر جا آثار تلاطم ہوں تو بل کھا کے گزر جا بہکی ہوئی مخمور گھٹاؤں کی صدا سن فردوس کی تدبیر کو بہلا کے گزر جا مایوس ہیں احساس سے الجھی ہوئی راہیں پائل دل مجبور کی چھنکا کے گزر جا یزدان و اہرمن کی حکایات کے بدلے انساں کی روایات کو دہرا کے گزر جا کہتی ہیں ...

مزید پڑھیے

ایک وعدہ ہے کسی کا جو وفا ہوتا نہیں

ایک وعدہ ہے کسی کا جو وفا ہوتا نہیں ورنہ ان تاروں بھری راتوں میں کیا ہوتا نہیں جی میں آتا ہے الٹ دیں ان کے چہرے سے نقاب حوصلہ کرتے ہیں لیکن حوصلہ ہوتا نہیں شمع جس کی آبرو پر جان دے دے جھوم کر وہ پتنگا جل تو جاتا ہے فنا ہوتا نہیں اب تو مدت سے رہ و رسم نظارہ بند ہے اب تو ان کا طور پر ...

مزید پڑھیے

کلیوں کی مہک ہوتا تاروں کی ضیا ہوتا

کلیوں کی مہک ہوتا تاروں کی ضیا ہوتا میں بھی ترے گلشن میں پھولوں کا خدا ہوتا ہر چیز زمانے کی آئینۂ دل ہوتی خاموش محبت کا اتنا تو صلہ ہوتا تم حال پریشاں کی پرسش کے لیے آتے صحرائے تمنا میں میلہ سا لگا ہوتا ہر گام پہ کام آتے زلفوں کے تری سائے یہ قافلۂ ہستی بے راہنما ہوتا احساس ...

مزید پڑھیے

محفلیں لٹ گئیں جذبات نے دم توڑ دیا

محفلیں لٹ گئیں جذبات نے دم توڑ دیا ساز خاموش ہیں نغمات نے دم توڑ دیا ہر مسرت غم دیروز کا عنوان بنی وقت کی گود میں لمحات نے دم توڑ دیا ان گنت محفلیں محروم چراغاں ہیں ابھی کون کہتا ہے کہ ظلمات نے دم توڑ دیا آج پھر بجھ گئے جل جل کے امیدوں کے چراغ آج پھر تاروں بھری رات نے دم توڑ ...

مزید پڑھیے

آہن کی سرخ تال پہ ہم رقص کر گئے

آہن کی سرخ تال پہ ہم رقص کر گئے تقدیر تیری چال پہ ہم رقص کر گئے پنچھی بنے تو رفعت افلاک پر اڑے اہل زمیں کے حال پہ ہم رقص کر گئے کانٹوں سے احتجاج کیا ہے کچھ اس طرح گلشن کی ڈال ڈال پہ ہم رقص کر گئے واعظ فریب شوق نے ہم کو لبھا لیا فردوس کے خیال پہ ہم رقص کر گئے ہر اعتبار حسن نظر سے ...

مزید پڑھیے

وقت کے رنگیں گلدستے کو یاد آئے گا ٹھنڈا ہاتھ

وقت کے رنگیں گلدستے کو یاد آئے گا ٹھنڈا ہاتھ جب بکھریں گے وہ گیسو تو مر جائے گا ٹھنڈا ہاتھ بھیگی پلکیں سوچ کی الجھن دامن تھامے پوچھ رہی ہیں کب تک تار گریباں یارو سلجھائے گا ٹھنڈا ہاتھ ساز تغزل چھیڑنے والو اے افسانے لکھنے والو آج لکیروں کی تفسیریں دہرائے گا ٹھنڈا ہاتھ گرم لہو ...

مزید پڑھیے

نظر نظر بیقرار سی ہے نفس نفس میں شرار سا ہے

نظر نظر بیقرار سی ہے نفس نفس میں شرار سا ہے میں جانتا ہوں کہ تم نہ آؤ گے پھر بھی کچھ انتظار سا ہے مرے عزیزو مرے رفیقو چلو کوئی داستان چھیڑو غم زمانہ کی بات چھوڑو یہ غم تو اب سازگار سا ہے وہی فسردہ سا رنگ محفل وہی ترا ایک عام جلوہ مری نگاہوں میں بار سا تھا مری نگاہوں میں بار سا ...

مزید پڑھیے

چراغ طور جلاؤ بڑا اندھیرا ہے

چراغ طور جلاؤ بڑا اندھیرا ہے ذرا نقاب اٹھاؤ بڑا اندھیرا ہے ابھی تو صبح کے ماتھے کا رنگ کالا ہے ابھی فریب نہ کھاؤ بڑا اندھیرا ہے وہ جن کے ہوتے ہیں خورشید آستینوں میں انہیں کہیں سے بلاؤ بڑا اندھیرا ہے مجھے تمہاری نگاہوں پہ اعتماد نہیں مرے قریب نہ آؤ بڑا اندھیرا ہے فراز عرش سے ...

مزید پڑھیے

تاروں سے میرا جام بھرو میں نشے میں ہوں

تاروں سے میرا جام بھرو میں نشے میں ہوں اے ساکنان خلد سنو میں نشے میں ہوں کچھ پھول کھل رہے ہیں سر شاخ مے کدہ تم ہی ذرا یہ پھول چنو میں نشے میں ہوں ٹھہرو ابھی تو صبح کا مارا ہے ضو فشاں دیکھو مجھے فریب نہ دو میں نشے میں ہوں نشہ تو موت ہے غم ہستی کی دھوپ میں بکھرا کے زلف ساتھ چلو میں ...

مزید پڑھیے

میں تلخیٔ حیات سے گھبرا کے پی گیا

میں تلخیٔ حیات سے گھبرا کے پی گیا غم کی سیاہ رات سے گھبرا کے پی گیا اتنی دقیق شے کوئی کیسے سمجھ سکے یزداں کے واقعات سے گھبرا کے پی گیا چھلکے ہوئے تھے جام پریشاں تھی زلف یار کچھ ایسے حادثات سے گھبرا کے پی گیا میں آدمی ہوں کوئی فرشتہ نہیں حضور میں آج اپنی ذات سے گھبرا کے پی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1418 سے 6203