وہ مرے دل کے طلب گار نظر آتے ہیں
وہ مرے دل کے طلب گار نظر آتے ہیں شادمانی کے اب آثار نظر آتے ہیں جو مرے نام سے بیزار نظر آتے تھے اب وہی دل کے طلب گار نظر آتے ہیں اب محبت کے پرستار کہاں اے ساقی سب محبت کے خریدار نظر آتے ہیں اب کے گلشن میں عجب رنگ سے آئی ہے بہار شاخ گل پر بھی ہمیں خار نظر آتے ہیں ہائے امید کا ...