قومی زبان

وہ مرے دل کے طلب گار نظر آتے ہیں

وہ مرے دل کے طلب گار نظر آتے ہیں شادمانی کے اب آثار نظر آتے ہیں جو مرے نام سے بیزار نظر آتے تھے اب وہی دل کے طلب گار نظر آتے ہیں اب محبت کے پرستار کہاں اے ساقی سب محبت کے خریدار نظر آتے ہیں اب کے گلشن میں عجب رنگ سے آئی ہے بہار شاخ گل پر بھی ہمیں خار نظر آتے ہیں ہائے امید کا ...

مزید پڑھیے

دنیا میں ہر قدم پہ ہمیں تیرگی ملی

دنیا میں ہر قدم پہ ہمیں تیرگی ملی دیکھا جو اپنے دل کی طرف روشنی ملی الفت ملی خلوص ملا دوستی ملی ہر دل میں ہم کو اپنی ہی تصویر سی ملی ناگاہ جیسے بچھڑا ہوا ہم سفر ملے غم مل گیا تو دل کو بڑی تازگی ملی شاید مری تلاش کا مقصد ہی تھا غلط آواز دی خرد کو تو دیوانگی ملی ہے اپنی زندگی کی ...

مزید پڑھیے

درد دل بھی کبھی لہو ہوگا

درد دل بھی کبھی لہو ہوگا کوئی ارماں تو سرخ رو ہوگا آرزو کوئی بر نہ آئے گی یہی انجام آرزو ہوگا دیکھ کر میرے دل کی بربادی کون شیدائے رنگ و بو ہوگا آئینے میں ہمیں وہ دیکھیں گے آئینہ ان کے رو بہ رو ہوگا ہم نہ ہوں گے تو اے غم جاناں کس کو یارائے آرزو ہوگا کچھ تو فرمائیں آپ تم یا ...

مزید پڑھیے

تیرے محل میں کیسے بسر ہو اس کی تو گیرائی بہت ہے

تیرے محل میں کیسے بسر ہو اس کی تو گیرائی بہت ہے میں گھر کی انگنائی میں خوش ہوں میرے لیے انگنائی بہت ہے اپنی اپنی ذات میں گم ہیں اہل دل بھی اہل نظر بھی محفل میں دل کیوں کر بہلے محفل میں تنہائی بہت ہے غرق دریا ہونا یارو غالبؔ نے کیوں چاہا آخر ایسی مرگ لا وارث میں سوچو تو رسوائی بہت ...

مزید پڑھیے

ہم کو مستی و خواری آئی

ہم کو مستی و خواری آئی تم کو دنیا داری آئی دل جوئی دل داری آئی تم کو بھی یہ عیاری آئی پھول کو ہم نے جب بھی چھوا ہے ہاتھ میں اک چنگاری آئی ساقی گم خالی مے خانہ کیسی یہ باد بہاری آئی حسن وہی ہے حسن کہ جس کو سادگی و پرکاری آئی مشکل جب آسان ہوئی تو الفت میں دشواری آئی مقتل میں اک ...

مزید پڑھیے

ہر ایک پھول کے دامن میں خار کیسا ہے

ہر ایک پھول کے دامن میں خار کیسا ہے بتائے کون کہ رنگ بہار کیسا ہے وہ سامنے تھے تو دل کو سکوں نہ تھا حاصل چلے گئے ہیں تو اب بے قرار کیسا ہے یقین تھا کہ نہ آئے گا مجھ سے ملنے کوئی تو پھر یہ دل کو مرے انتظار کیسا ہے اگر کسی نے تمہارا بھی دل نہیں توڑا تو آنسوؤں کا رواں آبشار کیسا ...

مزید پڑھیے

آپ سے کیا دوستی ہونے لگی

آپ سے کیا دوستی ہونے لگی اپنے دل سے دشمنی ہونے لگی پھر حسینوں کی طرف مائل ہے دل موت سے پھر دل لگی ہونے لگی مسکرائی میری توبہ پر بہار پارسائی کی ہنسی ہونے لگی تم نہ تھے تو دل کو اک تسکین تھی تم جو آئے بے کلی ہونے لگی ہر خوشی میں غم کا اک پہلو ملا ہر نئے غم سے خوشی ہونے لگی سن کے ...

مزید پڑھیے

شام کو صبح اندھیرے کو اجالا لکھیں

شام کو صبح اندھیرے کو اجالا لکھیں عالم‌ شوق میں کیا جانیے ہم کیا لکھیں مدعا لکھیں طلب لکھیں تمنا لکھیں اتنا کچھ لکھ کے بھی ہم خط کو ادھورا لکھیں کوئی خوشبو نہ کوئی رنگ نہ کوئی آواز دل کو ہم سنگ نہ سمجھیں تو اسے کیا لکھیں اک اسی سوچ میں گم ہو گئے کتنے موسم ان سے ہم حال زبانی ہی ...

مزید پڑھیے

وہ جس کو ہم نے اپنایا بہت ہے

وہ جس کو ہم نے اپنایا بہت ہے اسی نے دل کو تڑپایا بہت ہے ہمارے قتل کی سازش کے درپئے ہمارا نیک ہم سایہ بہت ہے دل درد آشنا شوق شہادت محبت میں یہ سرمایہ بہت ہے عجب شے ہے چمن زار تمنا ثمر کوئی نہیں سایہ بہت ہے خطا اس کی نہیں دل کو ہمیں نے تمناؤں میں الجھایا بہت ہے خدا محفوظ رکھے ...

مزید پڑھیے

ٹالنے سے وقت کیا ٹلتا رہا

ٹالنے سے وقت کیا ٹلتا رہا آستیں میں سانپ اک پلتا رہا موت بھی لیتی رہی اپنا خراج کاروبار زیست بھی چلتا رہا کوئی تو سانچہ کبھی آئے گا راس میں ہر اک سانچے میں یوں ڈھلتا رہا شہر کے سارے محل محفوظ تھے تیرا میرا آشیاں جلتا رہا زندگی میں اور سب کچھ تھا حسیں اپنا ہونا ہی مجھے کھلتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1359 سے 6203