قومی زبان

چھوڑ کر کاشانوں کو طائر گئے

چھوڑ کر کاشانوں کو طائر گئے روکنا چاہا تھا پر کیوں کر گئے پتہ پتہ بھی اڑا کر لے گئی آندھی کے ہم رہ سبھی منظر گئے ہاں وہی موسم تھا اور ہم بھی وہی راہ تکتے تھے جو وہ بے گھر گئے برف تھی کہرا بھی تھا اور خامشی دیکھ کر وہ حادثہ ہم ڈر گئے روشنی کا ایک ہیولیٰ ساتھ تھا جو ہوا کے ساتھ ...

مزید پڑھیے

فکر زر میں بلکتا ہوا آدمی

فکر زر میں بلکتا ہوا آدمی اب کہاں رہ گیا کام کا آدمی زندگی بھی حقیقت میں اک جرم ہے عمر بھر کاٹتا ہے سزا آدمی کون اپنائے ماضی کی پرچھائیاں کون پیدا کرے اب نیا آدمی خوبصورت سی اس پر کہانی لکھو گاؤں کی گوریاں شہر کا آدمی تھے بہت لوگ محفل میں بیٹھے ہوئے ان میں مشکل سے اک مل گیا ...

مزید پڑھیے

غم حیات کی پہنائیوں سے خوف زدہ

غم حیات کی پہنائیوں سے خوف زدہ میں عمر بھر رہا ناکامیوں سے خوف زدہ جہاں بھی دیکھو تعصب کی چل رہی ہے ہوا ہمارا شہر ہے بلوائیوں سے خوف زدہ کبھی کسی کا برا ہی نہیں کیا پھر بھی زمانہ ہے مری خوش حالیوں سے خوف زدہ کرم تمہارا کوئی بے غرض نہیں ہوتا ہے دل تمہاری مہربانیوں سے خوف ...

مزید پڑھیے

جو ترے پہلو میں گزری زندگی اچھی لگی

جو ترے پہلو میں گزری زندگی اچھی لگی غم ترا اچھا لگا تیری خوشی اچھی لگی یاس کے موسم میں اس کی دل لگی اچھی لگی آنکھ نم ہو کر بھی ہونٹوں پر ہنسی اچھی لگی دکھ بھی اس کی راہ میں ہیں سکھ بھی اس کی راہ میں موت سے ہر آدمی کو زندگی اچھی لگی حادثے پر حادثے ہی ہو رہے ہیں کیا خبر آسماں والے ...

مزید پڑھیے

آدمی کا ہے فسانہ خاک سے

آدمی کا ہے فسانہ خاک سے ہے ازل سے دوستانہ خاک سے آپ کے چہرے پہ رونق ہے بہت کیا کوئی نکلا خزانہ خاک سے میں کسی کا بھی رہوں محتاج کیوں پا رہا ہوں آب و دانہ خاک سے اک قدم بھی کیا اٹھے اس کے بغیر چل رہا ہے یہ زمانہ خاک سے زہر بھر دے جو تمہارے خون میں مت اگاؤ ایسا دانہ خاک سے جینا ...

مزید پڑھیے

وہ ابر سایہ فگن تھا جو رحمتوں کی طرح

وہ ابر سایہ فگن تھا جو رحمتوں کی طرح کسے خبر تھی نوازے گا بجلیوں کی طرح اس انقلاب کی دستک سنائی دیتی ہے جو بستیوں کو مٹا دے گا زلزلوں کی طرح ملا ہے وہ تو لگا ہے جنم جنم کا رفیق بچھڑ گیا تھا جو بچپن کے ساتھیوں کی طرح مری ہے پیاس جو صحرا بہ لب، شرر بہ زباں تمہاری آنکھ ہے گہرے ...

مزید پڑھیے

یاد آتا ہے مجھے ریت کا گھر بارش میں

یاد آتا ہے مجھے ریت کا گھر بارش میں میں اکیلی تھی سر راہ گزر بارش میں وہ عجب شخص تھا ہر حال میں خوش رہتا تھا اس نے تا عمر کیا ہنس کے سفر بارش میں تم نے پوچھا بھی تو کس موڑ پہ آ کر پوچھا کیسے اجڑا تھا چہکتا ہوا گھر بارش میں اک دیا جلتا ہے کتنی بھی چلے تیز ہوا ٹوٹ جاتے ہیں کئی ایک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1334 سے 6203