قومی زبان

نیند ان آنکھوں میں بن کر آئے کوئی

نیند ان آنکھوں میں بن کر آئے کوئی لوری ماں کی مجھے سنا جائے کوئی دور یہاں سے جا کر سب کچھ بھول گئے ہم زندہ ہیں ان کو بتلائے کوئی روز ازل سے ہم تھے اکیلے دنیا میں کہاں سے اور کیسے اب ساتھ آئے کوئی سچ کو میں سچ مان لوں اب یہ بہتر ہے مجھ کو قائل کیسے کر پائے کوئی ایسی کہانی کبھی ...

مزید پڑھیے

تھپکیاں دے کے ترے غم کو سلایا ہم نے

تھپکیاں دے کے ترے غم کو سلایا ہم نے کیا کہیں کس طرح یہ بوجھ اٹھایا ہم نے شام پڑتے ہی دیا کون جلاتا ہے یہاں اس حویلی میں نہ انساں کوئی پایا ہم نے یوں تو ہر ذرے سے پوچھا ترے جانے کا سبب راز گہرا تھا کسی کو نہ بتایا ہم نے وہ عجب شخص تھا ہر در پہ جھکاتا تھا جبیں چاہ کر بھی تو نہیں اس ...

مزید پڑھیے

مجھ کو ہر لمحہ نئی ایک کہانی دے گا

مجھ کو ہر لمحہ نئی ایک کہانی دے گا ہر کہانی میں ترا رنگ دکھائی دے گا کل جو اک لفظ نہ سنتا تھا صفائی میں مری آج وہ شخص مرے حق میں گواہی دے گا جس نے قائم کیا یہ رشتہ قلم سے میرا اب کہاں وہ مجھے دنیا میں دکھائی دے گا وقت آخر نہ ملاقات مری اس سے ہوئی ہر غزل میں مری یہ نوحہ سنائی دے ...

مزید پڑھیے

مجھ کو ویران سی راتوں میں جگانے والے

مجھ کو ویران سی راتوں میں جگانے والے لوٹ لے جان مری مجھ کو ستانے والے ساری آبادی کو یہ آگ جلا ڈالے گی اپنی باتوں سے مرے دل کو جلانے والے آ کبھی دیکھ تو اس گھر میں اکیلے رہ کر میری ہر بات کو باتوں میں اڑانے والے میری آنکھوں نے ہمیشہ تجھے راحت دی ہے انہی آنکھوں کو ہر اک لمحہ رلانے ...

مزید پڑھیے

خالی ہاتھوں میں محبت بانٹتی رہ جاؤں گی

خالی ہاتھوں میں محبت بانٹتی رہ جاؤں گی اپنے خالی ہاتھ آخر دیکھتی رہ جاؤں گی کوچ کر جائیں گے سب دشت وفا سے قافلے خواب آنکھوں میں لئے میں سوئی ہی رہ جاؤں گی بھول جائے گا کوئی مجھ کو بجھانے کا ہنر صبح بھی آئی تو شب بھر سے جلی رہ جاؤں گی پاؤں گی جرم محبت کی انوکھی سی سزا وقت کے ...

مزید پڑھیے

اسے یقیں مری باتوں پہ اب نہ آئے گا

اسے یقیں مری باتوں پہ اب نہ آئے گا مرا لہو ہی میرے بعد حق جتائے گا وہ بات کرنے سے پہلے ہی زخم دیتا ہے ہر ایک زخم اسے آئنہ دکھائے گا یہ کیسی رسم جسے چاہ کے نبھا نہ سکے زمانہ ہے یہ کسی دن بدل ہی جائے گا وہ جانتا ہی کہاں ہے میرے قبیلے کو میری جڑوں کو کریدے گا جان جائے گا پل صراط سے ...

مزید پڑھیے

بند آنکھیں کروں اور خواب تمہارے دیکھوں

بند آنکھیں کروں اور خواب تمہارے دیکھوں تپتی گرمی میں بھی وادی کے نظارے دیکھوں اوس سے بھیگی ہوئی صبح کو چھو لوں جب میں اپنی پلکوں پہ میں اشکوں کے ستارے دیکھوں اب تو ہر گام پہ صحرا و بیاباں میں بھی اپنی وادی کے ہی صدقے میں نظارے دیکھوں میں کہیں بھی رہوں جنت تو مری وادی ہے چاند ...

مزید پڑھیے

ہوا نے سینے میں خنجر چھپا کے رکھا ہے

ہوا نے سینے میں خنجر چھپا کے رکھا ہے یہ دیکھنا ہے کہ اب وار کس پہ کرتا ہے خبر یہ عام ہے پھر بھی یہ کیسا پردہ ہے کہ ٹوٹا آئنہ اس نے سنبھال رکھا ہے زباں بھی چپ ہے فضا پر ہے خامشی طاری ہے کس کا خوف تجھے کیوں کسی سے ڈرتا ہے تمہارے پاؤں کے نیچے کہیں زمیں ہی نہیں سفر کا کر کے تو کیسے ...

مزید پڑھیے

پہلے ہوتا تھا بہت اب کبھی ہوتا ہی نہیں

پہلے ہوتا تھا بہت اب کبھی ہوتا ہی نہیں دل مرا کانچ تھا ٹوٹا تو یہ روتا ہی نہیں وہ جو ہنستے تھے مرے ساتھ انہیں ڈھونڈوں کہاں کیسی دنیا ہے جہاں کا کوئی رستہ ہی نہیں ایک مدت سے میں بیٹھی ہوں یہی آس لیے چاند آنگن میں مرے کس لیے اترا ہی نہیں مجھ کو معلوم نہیں رونق محفل کیا ہے دشت ...

مزید پڑھیے

اب کے بارش کو بھی تو آنے دے

اب کے بارش کو بھی تو آنے دے کچھ ستم موسموں کو ڈھانے دے میرے گزرے ہوئے زمانے دے پھر مجھے زخم کچھ پرانے دے ہر کوئی مجھ کو آزماتا ہے اب مجھے اس کو آزمانے دے رات تو گہری نیند سوتی ہے ساز غم صبح کو سنانے دے دل کو اس سے سکون ملتا ہے درد کی محفلیں سجانے دے

مزید پڑھیے
صفحہ 1333 سے 6203