لازم ملزوم ہو گئے ذات و صفات
لازم ملزوم ہو گئے ذات و صفات ہیں شخص و وجود عکس و سایہ کا ثبات توحید کا جلوہ ہیں حدوث اور قدم معدوم صفت ہے ذات قائم ہے بذات
لازم ملزوم ہو گئے ذات و صفات ہیں شخص و وجود عکس و سایہ کا ثبات توحید کا جلوہ ہیں حدوث اور قدم معدوم صفت ہے ذات قائم ہے بذات
فصل ایسی ہے الفت کے دامن تلے ہم جلیں تم جلو ساری دنیا جلے تپ کے کندن کی مانند نکھرا جنوں جس قدر غم بڑھا بڑھ گئے حوصلے دل میں پھیلی ہے یوں روشنی یاد کی جیسے ویران مندر میں دیپک جلے جشن سے میری بربادیوں کا چلو دوستو آؤ شیشے میں شعلہ ڈھلے ہر نفس جیسے جینے کی تعزیر ہے کتنے دشوار ...
میری منزل بھی آسمان میں ہے اور دم بھی مری اڑان میں ہے کوئی لیتا نہیں کرائے پر جیسے آسیب اس مکان میں ہے کوئی جلتا نہیں چراغ وہاں روشنی پھر بھی اس مکان میں ہے آگ دنیا کو یہ لگا دے گا جو تعصب ترے بیان میں ہے کر لیا رام سب کو اک پل میں سحر ساحرؔ تری زبان میں ہے
دیر و حرم ہیں منظر آئین اختلاف حق پر سدا نظر ہے مری حین اختلاف بیرون در ہیں صورت و معنی کے پردہ دار ہیں پردۂ خفا میں قوانین اختلاف ہے برقرار گردش دوران روزگار نیرنگئ خیال ہے آئین اختلاف ممنون راستی ہے ہر اک نقطۂ نظر مد نظر جہاں میں ہے تمکین اختلاف کیا پارہ ہائے پیرہن ...
عالم کا وجود ہے نمود بے بود ہے آب سراب اس کی ہستی کی نمود نیرنگ طلسم اس کو کہنا ہے بجا ہے وہم میں موجود یقیں میں مفقود
مردود خلائق ہوں گنہ گار ہوں میں پامال جہاں ہوں کہ سزاوار ہوں میں انجام جو خاک ہے اگر جیتے جی مل جاؤں نہ خاک میں تو بے کار ہوں میں
میں نفس پرستی سے سدا خوار رہا ظلمت کدۂ غم میں گرفتار رہا غفلت سے نہ دم بھر کو مری آنکھ کھلی بے ہوش رہا کبھی نہ ہشیار رہا
ہر سر میں یہ سودا ہے کہ میں ہی میں ہوں ہر دل میں سمایا ہے کہ میں ہی میں ہوں اس نفس نے سب کو کر دیا ہے گمراہ عرفاں یہ دکھاتا ہے کہ میں ہی میں ہوں
نور ایماں سرمۂ چشم دل و جاں کیجئے پردہ دار حسن یکتا چشم حیراں کیجئے مشکلات راہ کو ہمت سے آساں کیجئے طے فنا کی منزلیں افتان و خیزاں کیجئے بے حجابانہ خود آرائی کے ساماں کیجئے مظہر شان تجلی بزم امکاں کیجئے ہیں من و تو جلوہ ہائے حسن وحدت کا حجاب شمع بزم خود شناسی نور عرفاں ...
ترے سوا مری ہستی کوئی جہاں میں نہیں یہ راز فاش ہے ہاں سے نہیں میں ہاں میں نہیں جو لا مکاں ہے مقید کسی مکاں میں نہیں تعینات نشاں میں ہیں بے نشاں میں نہیں صفات جلوہ گہ ذات ہے تجلی حسن یہ جسم جلوہ گہ جاں ہے نور جاں میں نہیں زبان حال سے ہے کیف بے خودی گویا یہ وہ زمیں ہے کہ جس کا نشاں ...