قومی زبان

فصل ایسی ہے الفت کے دامن تلے

فصل ایسی ہے الفت کے دامن تلے ہم جلیں تم جلو ساری دنیا جلے تپ کے کندن کی مانند نکھرا جنوں جس قدر غم بڑھا بڑھ گئے حوصلے دل میں پھیلی ہے یوں روشنی یاد کی جیسے ویران مندر میں دیپک جلے جشن سے میری بربادیوں کا چلو دوستو آؤ شیشے میں شعلہ ڈھلے ہر نفس جیسے جینے کی تعزیر ہے کتنے دشوار ...

مزید پڑھیے

میری منزل بھی آسمان میں ہے

میری منزل بھی آسمان میں ہے اور دم بھی مری اڑان میں ہے کوئی لیتا نہیں کرائے پر جیسے آسیب اس مکان میں ہے کوئی جلتا نہیں چراغ وہاں روشنی پھر بھی اس مکان میں ہے آگ دنیا کو یہ لگا دے گا جو تعصب ترے بیان میں ہے کر لیا رام سب کو اک پل میں سحر ساحرؔ تری زبان میں ہے

مزید پڑھیے

دیر و حرم ہیں منظر آئین‌ اختلاف

دیر و حرم ہیں منظر آئین‌ اختلاف حق پر سدا نظر ہے مری حین‌ اختلاف بیرون در ہیں صورت‌ و معنی کے پردہ دار ہیں پردۂ خفا میں قوانین اختلاف ہے برقرار گردش دوران روزگار نیرنگئ خیال ہے آئین‌ اختلاف ممنون راستی ہے ہر اک نقطۂ نظر مد نظر جہاں میں ہے تمکین اختلاف کیا پارہ ہائے پیرہن ...

مزید پڑھیے

نور ایماں سرمۂ چشم دل و جاں کیجئے

نور ایماں سرمۂ چشم دل و جاں کیجئے پردہ‌ دار حسن یکتا چشم حیراں کیجئے مشکلات راہ کو ہمت سے آساں کیجئے طے فنا کی منزلیں افتان‌‌ و خیزاں کیجئے بے حجابانہ خود آرائی کے ساماں کیجئے مظہر شان تجلی بزم امکاں کیجئے ہیں من و تو جلوہ ہائے حسن وحدت کا حجاب شمع بزم خود شناسی نور عرفاں ...

مزید پڑھیے

ترے سوا مری ہستی کوئی جہاں میں نہیں

ترے سوا مری ہستی کوئی جہاں میں نہیں یہ راز فاش ہے ہاں سے نہیں میں ہاں میں نہیں جو لا مکاں ہے مقید کسی مکاں میں نہیں تعینات نشاں میں ہیں بے نشاں میں نہیں صفات جلوہ گہ ذات ہے تجلی حسن یہ جسم جلوہ گہ جاں ہے نور جاں میں نہیں زبان حال سے ہے کیف بے خودی گویا یہ وہ زمیں ہے کہ جس کا نشاں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1335 سے 6203