عشق میں جس کے یہ احوال بنا رکھا ہے
عشق میں جس کے یہ احوال بنا رکھا ہے اب وہی کہتا ہے اس وضع میں کیا رکھا ہے لے چلے ہو مجھے اس بزم میں یارو لیکن کچھ مرا حال بھی پہلے سے سنا رکھا ہے حال دل کون سنائے اسے فرصت کس کو سب کو اس آنکھ نے باتوں میں لگا رکھا ہے دل برا تھا کہ بھلا کام وفا کے آیا یار جانے بھی دے اس بحث میں کیا ...