زندگی میں لگ چکا تھا غم کا سرمایہ بہت
زندگی میں لگ چکا تھا غم کا سرمایہ بہت اس لیے شاید کمایا ہم نے کم پایا بہت راندۂ ہر فصل گل ہم کب نہ تھے جو اب ہوئے سنتے ہیں یاروں کو یہ موسم بھی راس آیا بہت
زندگی میں لگ چکا تھا غم کا سرمایہ بہت اس لیے شاید کمایا ہم نے کم پایا بہت راندۂ ہر فصل گل ہم کب نہ تھے جو اب ہوئے سنتے ہیں یاروں کو یہ موسم بھی راس آیا بہت
تجھ کو ہی سوچتا رہوں فرصت نہیں رہی اور پھر وہ پہلے والی طبیعت نہیں رہی تجھ سے بچھڑ کے زندہ رہا تو پتہ چلا اب اس قدر بھی تیری ضرورت نہیں رہی میں سرد ہو گیا ہوں کہ اب تیرے لمس میں گزری رتوں کی آتشیں حدت نہیں رہی آخر کو تیرے غم بھی مجھے راس آ گئے شام فراق میں بھی وہ شدت نہیں ...
راحت کے واسطے نہ رفاقت کے واسطے اب کوئی مجھ کو چاہے تو چاہت کے واسطے یہ اختلاف فکر بہت کام آئے گا اس کو بچا کے رکھ کسی ساعت کے واسطے دونوں کو اس جہان میں سچ کی تلاش تھی اتنا بہت تھا ہم میں رفاقت کے واسطے میں خواہش قیام سے آگے نکل گیا اب مجھ کو مت پکار اقامت کے واسطے منزل مری سفر ...
کیوں مل رہی ہے ان کو سزا چیختی رہی سنسان وادیوں میں ہوا چیختی رہی ہونٹوں کی لرزشوں میں رہے حرف منجمد سینے میں دفن ہو کے دعا چیختی رہی صدمے کی شدتوں سے ہر اک آنکھ خشک تھی یہ دیکھ کر فلک پہ گھٹا چیختی رہی اک مصلحت کے سامنے مجبور تو ہوئے لیکن قدم قدم پہ انا چیختی رہی رخصت ہوئے تو ...
مٹی ترے مہکنے سے مجھ کو گمان ہے بارش کی بوند بوند میں اک داستان ہے یہ سوچتے ہو کیوں کہ خدا بس تمہیں ملا دیکھو جہاں زمیں ہے وہاں آسمان ہے لگتا ہے گھر وہی جہاں آپس میں پیار ہو ورنہ تو لوگ رہتے ہیں اور اک مکان ہے آنکھوں کی بات چیت میں پڑنا یہ سوچ کر نظروں کے لین دین میں دل کا زیان ...
کل پہلی بار اس سے عنایت سی ہو گئی کچھ اس طرح کہ مجھ کو شکایت سی ہو گئی آیا ہے اب خیال تلافی تجھے کہ جب اس دل کو تیرے ہجر کی عادت سی ہو گئی پہلے پہل تو عام سی لڑکی لگی مجھے پھر یوں ہوا کہ اس سے محبت سی ہو گئی اتنے طویل عرصے سے ہم ساتھ ساتھ ہیں اب ایک دوسرے کی ضرورت سی ہو گئی اک بار ...
سوز غم بھی نہیں فغاں بھی نہیں جل بجھی آگ اب دھواں بھی نہیں تو بظاہر وہ مہرباں بھی نہیں منتیں میری رائیگاں بھی نہیں جانے کیوں تم سے کچھ نہیں کہتے ورنہ ہم اتنے بے زباں بھی نہیں وہ نگاہیں کہ بے نیاز بھی ہیں اور ان سے کہیں اماں بھی نہیں دیدہ و دل ہیں کب سے چشم براہ کوئی افتاد ...
کہے تو کون کہے سرگذشت آخر شب جنوں ہے سر بہ گریباں خرد ہے مہر بہ لب حدود شوق کی منزل سے تا بہ حد ادب ہزار مرحلۂ جاں گداز و صبر طلب یہ عالم قد و گیسو یہ حسن عارض و لب تمام نکہت و نغمہ تمام شعر و ادب بدل سکا نہ زمانہ مزاج اہل جنوں وہی دلوں کے تقاضے وہی نظر کی طلب ہزار حرف حکایت وہ ...
آج مئی کا پہلا دن ہے آج کا دن مزدور کا دن ہے ظلم و ستم کے مد مقابل حوصلۂ جمہور کا دن ہے آج کا دن یہ علم و ہنر کا فکر و عمل کی فتح و ظفر کا آج شکست ظلمت شب ہے آج فروغ نور کا دن ہے صدیوں کے مظلوم انساں نے آج کے دن خود کو پہچانا آج کا دن ہے یوم انا الحق آج کا دن منصور کا دن ہے اپنے لہو ...
ہم تو شاعر ہیں ہم سچ نہیں بولتے جان جاں سچ پہ کیوں اتنا اصرار ہے سچ کی عظمت سے کب ہم کو انکار ہے ہم بھی شاعر ہیں آخر اسی قوم کے جس کا ہر فرد بکنے پہ تیار ہے ہم ہیں لفظوں کے تاجر یہ بازار ہے سچ تو یہ ہے گزرتے ہوئے وقت سے فائدہ جو اٹھا لے وہ فن کار ہے ہم نہ سقراط ہیں ہم نہ منصور ہیں ہم سے ...