قومی زبان

اہل غم سے عشرت عالم کا ساماں ہو گیا

اہل غم سے عشرت عالم کا ساماں ہو گیا جب زمیں کی داغ ابھر آئے گلستاں ہو گیا اپنی حد سے بڑھ کے جاتا کس طرف کو دل مرا جان پڑتے ہی یہ مشت خاک بے جاں ہو گیا عشق کے بعد اب حوادث کی ضرورت کیا رہی آسماں دم لے مرے مرنے کا ساماں ہو گیا حشر میں پہچان کر قاتل کا منہ تکنے لگا جب ضرورت ہوش کی ...

مزید پڑھیے

آئینۂ عبرت ہے مرا دل بھی جگر بھی

آئینۂ عبرت ہے مرا دل بھی جگر بھی اک درد کی تصویر ادھر بھی ہے ادھر بھی کیا تم سے شکایت مجھے قسمت سے گلہ ہے پھرتا ہے مقدر تو پلٹتی ہے نظر بھی اس کو بھی نکال اے دل پر داغ کے گلچیں کانٹا ہے مرے پہلوئے خالی میں جگر بھی بس نالۂ دل بس مجھے امید نہیں ہے منہ دیکھنے والوں میں ہے ظالم کے ...

مزید پڑھیے

جل گیا خاک ہوا کب کا وہ پروانۂ دل

جل گیا خاک ہوا کب کا وہ پروانۂ دل ختم ہوتا نہیں اب تک مگر افسانۂ دل حشر کے دن پہ اٹھا رکھ کہ بڑا سودا ہے عالم حسن سے ممکن نہیں بیعانۂ دل آپ کی اک نگہ ناز اسے چھلکا دیتی قابل شربت دیدار تھا پیمانۂ دل ہم جبھی سمجھے تھے انجام کہ جب فطرت نے خاک اور خون سے تیار کیا خانۂ دل جلنے والے ...

مزید پڑھیے

خون کس کس کا ہوا صدقے تری تلوار پر

خون کس کس کا ہوا صدقے تری تلوار پر فصل گل دھبے ہیں لاکھوں دامن گلزار پر اب رہا دل تا قیامت ابروے خم دار پر کیا ہٹے گا وہ جو گردن رکھ چکا تلوار پر فصل گل رخصت ہوئی رو لیجئے گلزار پر بس یہی دو تین پنکھڑیاں ہیں یا دو چار پر وصل فرقت کی شبیں دونوں میں نیند آتی نہیں ہنس رہا ہوں رو رہا ...

مزید پڑھیے

غش بھی آیا مری پرسش کو قضا بھی آئی

غش بھی آیا مری پرسش کو قضا بھی آئی بے مروت تجھے کچھ شرم و حیا بھی آئی موسم حسن تو تھا فصل جفا بھی آئی ساتھ ہی ساتھ جوانی کی ادا بھی آئی دم کا آنکھوں میں اٹکنا بھی مبارک نہ ہوا وقت کی بات تم آئے تو قضا بھی آئی میں شب وصل یہ سمجھا کہ سحر بھی کچھ ہے وہ جو آئے تو موذن کی صدا بھی ...

مزید پڑھیے

دل کیوں تپاں ہے کوچۂ دل دار دیکھ کر

دل کیوں تپاں ہے کوچۂ دل دار دیکھ کر آگے بڑھوں گا چرخ کی رفتار دیکھ کر خوش ہو سکا نہ حال دل زار دیکھ کر جلتا ہے غیر میری شب تار دیکھ کر سمجھے نہ آپ دیدۂ خوں بار دیکھ کر کیا کیجئے گا حال دل زار دیکھ کر صیاد داغ دل نہ سمجھنا کہ چلتے وقت گلشن کے پھول لایا ہوں دو چار دیکھ کر طے کر کے ...

مزید پڑھیے

تیرگی نام ہے دل والوں کے اٹھ جانے کا

تیرگی نام ہے دل والوں کے اٹھ جانے کا جس کو شب کہتے ہیں مقتل ہے وہ پروانے کا چل بیاباں کی طرف جی نہیں گھبرانے کا روح مجنوں سے گھر آباد ہے ویرانے کا دیدۂ دوست تری چشم نمائی کی قسم میں تو سمجھا تھا کہ در کھل گیا میخانے کا دم آخر کی ملاقات میں کیا تم سے کہوں وقت ہی تنگ بہت ہجر کے ...

مزید پڑھیے

رخ و زلف کا ہوں فسانہ خواں یہی مشغلہ یہی کام ہے

رخ و زلف کا ہوں فسانہ خواں یہی مشغلہ یہی کام ہے مجھے دن کا چین عذاب جاں مجھے شب کی نیند حرام ہے ترے انتظار میں ہے تعب یہ مریض ہجر ہے جاں بہ لب کہیں آ بھی وعدہ خلاف اب کہ یہاں تو کام تمام ہے کہوں حسرتوں کا ہجوم کیا در دل تک آ کے وہ بے وفا مجھے یہ سنا کے پلٹ گیا کہ یہاں تو مجمع عام ...

مزید پڑھیے

ہٹے یہ آئنہ محفل سے اور تو آئے

ہٹے یہ آئنہ محفل سے اور تو آئے کوئی تو ہو جو کبھی دل کے روبرو آئے مرے لہو سے اگر ہو کے سرخ رو آئے ملو تو برگ حنا میں وفا کی بو آئے وہ آنسوؤں کی صفائی سے بد گماں ہیں عبث دل و جگر میں رہا کیا ہے جو لہو آئے شب وصال بھی تا صبح مطمئن نہ رہا ابھی تھی رات کہ پیغام آرزو آئے بیان برق تجلی ...

مزید پڑھیے

یہ آہ و فغاں کیوں ہے دل زار کے آگے

یہ آہ و فغاں کیوں ہے دل زار کے آگے کہتے ہیں کہ روتے نہیں بیمار کے آگے پھر موت کا ہے سامنا اللہ بچائے پھر دل لیے جاتا ہے ستم گر کے آگے بکنے کے لیے آپ نہ بازار میں آئے بھجوا دیا یوسف کو خریدار کے آگے منعم کو مبارک یہ نقیب اور جلو دار اللہ ہی اللہ ہے نادار کے آگے ضد کرتے ہو کیوں تیر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1205 سے 6203