اہل غم سے عشرت عالم کا ساماں ہو گیا
اہل غم سے عشرت عالم کا ساماں ہو گیا جب زمیں کی داغ ابھر آئے گلستاں ہو گیا اپنی حد سے بڑھ کے جاتا کس طرف کو دل مرا جان پڑتے ہی یہ مشت خاک بے جاں ہو گیا عشق کے بعد اب حوادث کی ضرورت کیا رہی آسماں دم لے مرے مرنے کا ساماں ہو گیا حشر میں پہچان کر قاتل کا منہ تکنے لگا جب ضرورت ہوش کی ...