کہیں یہ تسکین دل نہ دیکھی کہیں یہ آرام جاں نہ دیکھا
کہیں یہ تسکین دل نہ دیکھی کہیں یہ آرام جاں نہ دیکھا تمہارے در کی جو خاک پائی تو ہم نے سوئے جناں نہ دیکھا بڑی چمک آفتاب میں تھی عجب دمک ماہتاب میں تھی اچھال دی خاک دل جو ہم نے کسی کو پھر ضو فشاں نہ دیکھا اگر مقدر کرے نہ یاری تو فرق کیا ہے کوئی جگہ ہو چلو وہ قید قفس ہی دیکھی پھنکا ...