مست سحر و توبہ کناں شام کا ہوں میں
مست سحر و توبہ کناں شام کا ہوں میں قاضی کے گرفتار نت اعلام کا ہوں میں بندہ کہو خادم کو چاکر کہو مجھ کو جو کچھ کہو سو ساقیٔ گلفام کا ہوں میں خدمت میں مجھے عشق کی ہے دل سے ارادت نے معتقد کفر نہ اسلام کا ہوں میں یک روز حلال اس کو بھی میں کر کے نہ کھایا نوکر جو خرابات میں دو جام کا ...