قومی زبان

تجھ عشق کے مریض کی تدبیر شرط ہے

تجھ عشق کے مریض کی تدبیر شرط ہے لیکن شفا کو گردش تقدیر شرط ہے سودائی دل کو زلف گرہ گیر شرط ہے دیوانے کے علاج میں زنجیر شرط ہے نالے تو میں بہت کئے اس بت کے سامنے پتھر کے نرم کرنے کو تاثیر شرط ہے ہو خاک راہ عشق میں تا قدر ہو تری مس کے طلا بنانے کو اکسیر شرط ہے کافی ہے اک اشارۂ ابرو ...

مزید پڑھیے

دیکھوں ہوں یوں میں اس ستم ایجاد کی طرف

دیکھوں ہوں یوں میں اس ستم ایجاد کی طرف جوں صید وقت ذبح کے صیاد کی طرف نے دانہ ہم قیاس کیا نے لحاظ دام دھنس گئے قفس میں دیکھ کے صیاد کی طرف ثابت نہ ہووے خون مرا روز باز پرس بولیں گے اہل حشر سو جلاد کی طرف پتھر کی لیکھ تھا سخن اس کا ہزار حیف بولی زبان تیشہ نہ فرہاد کی طرف طرہ کے ...

مزید پڑھیے

برہمن بت کدے کے شیخ بیت اللہ کے صدقے

برہمن بت کدے کے شیخ بیت اللہ کے صدقے کہیں ہیں جس کو سوداؔ وہ دل آگاہ کے صدقے جتا دیں جس جگہ ہم قدر اپنی ناتوانی کی اگر کہسار واں ہووے تو جاوے کاہ کے صدقے نہ دے تکلیف جلنے کی کسو کے دل کو میرے پر اثر سے دور رہتی ہیں میں اپنی آہ کے صدقے عجائب شغل میں تھے رات تم اے شیخ رحمت ہے میں اس ...

مزید پڑھیے

تجھ بن بہت ہی کٹتی ہے اوقات بے طرح

تجھ بن بہت ہی کٹتی ہے اوقات بے طرح جوں توں کے دن تو گزرے ہے پر رات بے طرح ہوتی ہے ایک طرح سے ہر کام کی جزا اعمال عشق کی ہے مکافات بے طرح بلبل کر اس چمن میں سمجھ کر ٹک آشیاں صیاد لگ رہا ہے تری گھات بے طرح پوچھا پیام بر سے جو میں یار کا جواب کہنے لگا خموش کہ ہے بات بے طرح ملنے نہ دے ...

مزید پڑھیے

دامن صبا نہ چھو سکے جس شہ سوار کا

دامن صبا نہ چھو سکے جس شہ سوار کا پہنچے کب اس کو ہاتھ ہمارے غبار کا موج نسیم آج ہے آلودہ گرد سے دل خاک ہو گیا ہے کسی بے قرار کا خون جگر شراب و ترشح ہے چشم تر ساغر مرا گرو نہیں ابر بہار کا چشم کرم سے عاشق وحشی اسیر ہو الفت ہے دام آہوئے دل کے شکار کا سونپا تھا کیا جنوں نے گریبان کو ...

مزید پڑھیے

بہار باغ ہو مینا ہو جام صہبا ہو

بہار باغ ہو مینا ہو جام صہبا ہو ہوا ہو ابر ہو ساقی ہو اور دریا ہو روا ہے کہہ تو بھلا اے سپہر نا انصاف ریائے زہد چھپے راز عشق رسوا ہو بھرا ہے اس قدر اے ابر دل ہمارا بھی کہ ایک لہر میں روئے زمین دریا ہو جو مہرباں ہیں وہ سوداؔ کو مغتنم جانیں سپاہی زادوں سے ملتا ہے دیکھیے کیا ہو

مزید پڑھیے

ہر سنگ میں شرار ہے تیرے ظہور کا

ہر سنگ میں شرار ہے تیرے ظہور کا موسیٰ نہیں کہ سیر کروں کوہ طور کا پڑھیے درود حسن صبیح و ملیح پر جلوہ ہر ایک پر ہے محمد کے نور کا توڑوں یہ آئنہ کہ ہم آغوش عکس ہے ہووے نہ مج کو پاس جو تیرے حضور کا بیکس کوئی مرے تو جلے اس پہ دل مرا گویا ہے یہ چراغ غریباں کی گور کا ہم تو قفس میں آن کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1149 سے 6203