قومی زبان

عجیب ڈھنگ سے میں نے یہاں گزارا کیا

عجیب ڈھنگ سے میں نے یہاں گزارا کیا کہ دل کو برف کیا ذہن کو شرارہ کیا مزاج درد کو سب لفظ بھی قبول نہ تھے کسی کسی کو ترے غم کا استعارہ کیا پھر اس کے اشک بھی اس کو ادا نہ کر پائے وہ دکھ جو اس کے تبسم نے آشکارا کیا کہ جیسے آنکھ کے لگتے ہی کھل گئیں آنکھیں نگاہ جاں نے بہت دور تک نظارہ ...

مزید پڑھیے

دل میں رکھے ہوئے آنکھوں میں بسائے ہوئے شخص

دل میں رکھے ہوئے آنکھوں میں بسائے ہوئے شخص پاس سے دیکھ مجھے دور سے آئے ہوئے شخص جانتا ہوں یہ ملاقات ذرا دیر کی ہے تپتی راہوں میں خنک چھاؤں کھلائے ہوئے شخص تیرے لب پر ترے رخسار کی لو پڑتی ہے تاب خورشید سے مہتاب جلائے ہوئے شخص یہ تو دنیا بھی نہیں ہے کہ کنارا کر لے تو کہاں جائے گا ...

مزید پڑھیے

آنکھوں میں ایک خواب پس خواب اور ہے

آنکھوں میں ایک خواب پس خواب اور ہے اک موج تند و تیز تہہ آب اور ہے ان سے بھی میری دوستی ان سے بھی رنجشیں سینے میں ایک حلقۂ احباب اور ہے شاید کبھی کھلے یہ مرے نغمہ گر پہ بھی یہ ساز جسم اور ہے مضراب اور ہے چلیے کہیں زمیں کی کشش کچھ تو کم ہوئی خشکی پہ جسم اور تہہ آب اور ہے پھر آ نہ ...

مزید پڑھیے

نمو پزیر ہے اک دشت بے نمو مجھ میں

نمو پزیر ہے اک دشت بے نمو مجھ میں ظہور کرنے کو ہے پھر شہر آرزو مجھ میں یہ زخم وہ ہے کہ جس کو دکھانا مشکل ہے ٹپک رہا ہے مسلسل مرا لہو مجھ میں رگوں میں چاپ سی کوئی سنائی دیتی ہے یہ کون ہے کہ جو پھرتا ہے کو بہ کو مجھ میں میں اپنے لہجے سے ہر لمحہ خوف کھاتا ہوں چھپا ہوا ہے کوئی شخص تند ...

مزید پڑھیے

کہاں سے ڈھونڈھ کے لاؤں پرانے خواب آنکھوں میں

کہاں سے ڈھونڈھ کے لاؤں پرانے خواب آنکھوں میں کوئی منظر نہیں ٹکتا مری سیراب آنکھوں میں نہ نیندیں تھیں نہ آنسو تھے نہ خوشیاں تھیں مگر تو تھا کہ اب تو بھی نہیں آتا ہے ان بے خواب آنکھوں میں کسی بھی آئنے میں اب مرا چہرہ نہیں دکھتا مرا چہرہ نکلتا ہے انہیں بیتاب آنکھوں میں جسے تعمیر ...

مزید پڑھیے

سر بسر بدلا ہوا دیکھا تھا کل یار کا رنگ

سر بسر بدلا ہوا دیکھا تھا کل یار کا رنگ خوب پہنا ہے نیا اس نے بھی اس بار کا رنگ سوکھے پتوں کی طرح اڑتا ہوا دور تلک میں نے جاتے ہوئے دیکھا مرے کردار کا رنگ اب جو آیا ہوں تو خاموش تو جاؤں گا نہیں اب اڑا کر کے ہی جاؤں گا میں دو چار کا رنگ کوئی کہہ دے کہ جھکا دو تو جھکا دوں میں سر اتنا ...

مزید پڑھیے

حیرت سے تکتا ہے صحرا بارش کے نذرانے کو

حیرت سے تکتا ہے صحرا بارش کے نذرانے کو کتنی دور سے آئی ہے یہ ریت سے ہاتھ ملانے کو سات سروں کی لہروں پہ ہلکورے لیتے پھول سے ہیں اک مدہوش فضا سنتی ہے اک چڑیا کے گانے کو بولتی ہو تو یوں ہے جیسے پھول پہ تتلی ڈولتی ہو تم نے کیسا سبز کیا ہے اور کیسے ویرانے کو لیکن ان سے اور طرح کی ...

مزید پڑھیے

عشق سامان بھی ہے بے سر و سامانی بھی

عشق سامان بھی ہے بے سر و سامانی بھی اسی درویش کے قدموں میں ہے سلطانی بھی ہم بھی ویسے نہ رہے دشت بھی ویسا نہ رہا عمر کے ساتھ ہی ڈھلنے لگی ویرانی بھی وہ جو برباد ہوئے تھے ترے ہاتھوں وہی لوگ دم بخود دیکھ رہے ہیں تری حیرانی بھی آخر اک روز اترنی ہے لبادوں کی طرح تن ملبوس! یہ پہنی ...

مزید پڑھیے

ہر روز امتحاں سے گزارا تو میں گیا

ہر روز امتحاں سے گزارا تو میں گیا تیرا تو کچھ نہیں گیا مارا تو میں گیا جب تک میں تیرے پاس تھا بس تیرے پاس تھا تو نے مجھے زمیں پہ اتارا تو میں گیا یہ طاق یہ چراغ مرے کام کے نہیں آیا نہیں نظر وہ دوبارہ تو میں گیا شل انگلیوں سے تھام رکھا ہے چٹان کو چھوٹا جو ہاتھ سے یہ کنارا تو میں ...

مزید پڑھیے

آنکھوں کا بھرم نہیں رہا ہے

آنکھوں کا بھرم نہیں رہا ہے سرمایۂ نم نہیں رہا ہے ہر شے سے پلٹ رہی ہیں نظریں منظر کوئی جم نہیں رہا ہے برسوں سے رکے ہوئے ہیں لمحے اور دل ہے کہ تھم نہیں رہا ہے یوں محو غم زمانہ ہے دل جیسے ترا غم نہیں رہا ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 1140 سے 6203