عجیب ڈھنگ سے میں نے یہاں گزارا کیا
عجیب ڈھنگ سے میں نے یہاں گزارا کیا کہ دل کو برف کیا ذہن کو شرارہ کیا مزاج درد کو سب لفظ بھی قبول نہ تھے کسی کسی کو ترے غم کا استعارہ کیا پھر اس کے اشک بھی اس کو ادا نہ کر پائے وہ دکھ جو اس کے تبسم نے آشکارا کیا کہ جیسے آنکھ کے لگتے ہی کھل گئیں آنکھیں نگاہ جاں نے بہت دور تک نظارہ ...