قومی زبان

انجام خوشی کا دنیا میں سچ کہتے ہو غم ہوتا ہے

انجام خوشی کا دنیا میں سچ کہتے ہو غم ہوتا ہے ثابت ہے گل اور شبنم سے جو ہنستا ہے وہ روتا ہے ہم شوق کا نامہ لکھتے ہیں کہ صبر اے دل کیوں روتا ہے یہ کیا ترکیب ہے اے ظالم ہم لکھتے ہیں تو دھوتا ہے ہے دل اک مرد آخر بیں اپنے اعمال پر روتا ہے گر ڈوب کے دیکھو اشک نہیں موتی سے کچھ یہ پروتا ...

مزید پڑھیے

ہے عشق تو پھر اثر بھی ہوگا

ہے عشق تو پھر اثر بھی ہوگا جتنا ہے ادھر ادھر بھی ہوگا مانا یہ کہ دل ہے اس کا پتھر پتھر میں نہاں شرر بھی ہوگا ہنسنے دے اسے لحد پہ میری اک دن وہی نوحہ گر بھی ہوگا نالہ مرا گر کوئی شجر ہے اک روز یہ بارور بھی ہوگا ناداں نہ سمجھ جہان کو گھر اس گھر سے کبھی سفر بھی ہوگا مٹی کا ہی گھر ...

مزید پڑھیے

گاہے گاہے وہ چلے آتے ہیں دیوانے کے پاس

گاہے گاہے وہ چلے آتے ہیں دیوانے کے پاس جیسے آتی ہیں بہاریں سج کے ویرانے کے پاس پارسائی شیخ صاحب کی بھی اب مشکوک ہے شام کو دیکھا ہے ہم نے ان کو میخانے کے پاس رنج و غم افسردگی مایوسیاں مجبوریاں تیرے غم میں کیا نہیں ہے تیرے دیوانے کے پاس گلستاں کیسے جلا کچھ کہہ نہیں سکتا مگر برق ...

مزید پڑھیے

خون دل سے رہ ہستی کو فروزاں کر لیں

خون دل سے رہ ہستی کو فروزاں کر لیں معتبر اور بھی ہم جشن گلستاں کر لیں دور پر دور چلے جام کو رقصاں کر لیں دوستوں آؤ علاج غم دوراں کر لیں اک نئے رنگ سے تزئین گلستاں کر لیں لاکھ ہو دور خزاں جشن بہاراں کر لیں پھر نہ چھٹ جائیں کہیں رنج و محن کے بادل اپنی زلفوں کو ذرا آپ پریشاں کر ...

مزید پڑھیے

رات دن لب پہ نہ ہو کیونکہ بیان دہلی

رات دن لب پہ نہ ہو کیونکہ بیان دہلی نہ مکیں اب وہ رہے اور نہ مکان دہلی بعض مقتول ہوئے بعضوں نے پھانسی پائی نام کو بھی نہ رہے پیر و جوان دہلی شکوہ بے فائدہ کرتا ہے کسی کا ہمدم تھا مقدر میں لکھا یوں ہی زیان دہلی نہیں بازار محبت میں خریدارئ دل چھان ڈالی ہے ہر اک میں نے دوکان ...

مزید پڑھیے

آتے جاتے موسموں کا سلسلہ باقی رہے

آتے جاتے موسموں کا سلسلہ باقی رہے روز ہم ملتے رہیں اور فاصلہ باقی رہے کھا گئیں دریا کی موجیں خواب آور گولیاں بادبانی کے لیے پاگل ہوا باقی رہے کل کوئی بوڑھا مصور مجھ سے ملنے آئے گا اے مرے منصف مری تھوڑی سزا باقی رہے شاعری کرتے رہو لیکن رہے اتنا خیال دشمنوں سے دوستی کا حوصلہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1119 سے 6203