دولت نہیں جب تک یہ زبوں رہتے ہیں
دولت نہیں جب تک یہ زبوں رہتے ہیں محراب دعا میں سرنگوں رہتے ہیں آ جاتی ہے جس وقت گھر ان کے دولت پھر کیا ہے یہ سرگرم جنوں رہتے ہیں
دولت نہیں جب تک یہ زبوں رہتے ہیں محراب دعا میں سرنگوں رہتے ہیں آ جاتی ہے جس وقت گھر ان کے دولت پھر کیا ہے یہ سرگرم جنوں رہتے ہیں
محبت میں کوئی تنہا سفر اچھا نہیں لگتا جو آؤں لوٹ کر تو اپنا گھر اچھا نہیں لگتا اصولاً پیار اور نفرت ہمیشہ ساتھ رہتے ہیں تری گلیوں سے لوگوں کا گزر اچھا نہیں لگتا انہیں تو قتل کرنے پر ثواب خلد ملتا ہے انہیں کو پیار کا اک بھی شجر اچھا نہیں لگتا زمانے بھر کے تم کو ناز و نخرے کیوں ...
بات چھیڑو نہ کوئی اس کے فسانے والی ورنہ دل کو نہیں تسکین ہے آنے والی تھک گئی آج چلائے نہیں تم نے پتھر مجھ کو عادت ہے سدا خوں میں نہانے والی پھر اٹھے آج قدم جانب مقتل میرے یہ کشش جان سے پہلے نہیں جانے والی اشک ایسے نہ بہاؤ مرا دل جلنے دو آگ یہ وہ نہیں پانی سے بجھانے والی
لازم نہیں اس دولت فانی پہ دماغ کر شکر جو حاصل ہے ترے دل کو فراغ مت تیغ زباں سے کر دلوں کو گھائل بھر جانے پہ زخم کے بھی رہ جاتا ہے داغ
غیرت میں سیاست میں شجاعت میں ہو مرد ہمت میں مروت میں عبادت میں ہو مرد لالچ سے شیخت سے تعلی سے ہو دور اتنا ہو کوئی تو قوم کا ہو ہمدرد
پاتا نہیں موت پر کوئی شخص ظفر ممکن ہی نہیں اس سے کسی طرح مفر ہر چند اس سفر میں سختی ہے بہت سہ لے کہ مصیبت سے تقاضائے سفر
دولت کے بھروسے پہ نہ ہونا غافل بہتر نہیں اوقات کا کھونا غافل واقع میں ہیں بیدار اسی شخص کے بخت جس شخص کو کر سکے نہ سونا غافل
یہ بات عجیب نگاہ میں آئی ہے ہر طرح سے جو خیال کو بھائی ہے یوں کوئی ہو لاکھ اپنے گھر میں یوسف بھائی ہے ادا جس کی وہی بھائی ہے
اخلاق کے عنصر ہوں اگر اصل مزاج جو قوم ہو کبھی نہ محتاج علاج ہو اس کو ہمیشہ خرق عادت کا ظہور حاصل ہو اسے عمر ابد کی معراج
ایرانی فصاحت اور حجازی غیرت یونانی بلاغت اور رومی حکمت ترکانہ جلالت اور چینی صنعت جس قوم میں عام ہو ہے قومی عزت