زندگی کے سب ابھرتے اور ڈھلتے زاویے
زندگی کے سب ابھرتے اور ڈھلتے زاویے نقش ہیں نظروں میں نظروں کے بدلتے زاویے دھڑکنیں بے تابیاں پر کیف بانہوں کا حصار سانس کی حدت سے جذبوں کے پگھلتے زاویے منقطع کرنے لگی ہیں ہوش سے ادراک سے اک نظر کی وسعتیں قوسیں مچلتے زاویے رفتہ رفتہ پھول چہروں کی چمک کو کھا گئے جنس پرور بھوکی ...