قومی زبان

زندگی کے سب ابھرتے اور ڈھلتے زاویے

زندگی کے سب ابھرتے اور ڈھلتے زاویے نقش ہیں نظروں میں نظروں کے بدلتے زاویے دھڑکنیں بے تابیاں پر کیف بانہوں کا حصار سانس کی حدت سے جذبوں کے پگھلتے زاویے منقطع کرنے لگی ہیں ہوش سے ادراک سے اک نظر کی وسعتیں قوسیں مچلتے زاویے رفتہ رفتہ پھول چہروں کی چمک کو کھا گئے جنس پرور بھوکی ...

مزید پڑھیے

ہمیں کو بھول گئے آپ کے بھی کیا کہنے

ہمیں کو بھول گئے آپ کے بھی کیا کہنے یقیں کو بھول گئے آپ کے بھی کیا کہنے مرے خیال کو چوری کیا کیا سو کیا زمیں کو بھول گئے آپ کے بھی کیا کہنے مکاں بناتے رہے بام و در سجاتے رہے مکیں کو بھول گئے آپ کے بھی کیا کہنے اسیر عام سے چہرے کے ہو کے بیٹھے ہیں حسیں کو بھول گئے آپ کے بھی کیا ...

مزید پڑھیے

اے خواب دل نواز نہ آ کر ستا مجھے

اے خواب دل نواز نہ آ کر ستا مجھے ہے نیند آئی ٹوٹ کر بعد از قضا مجھے میں تو جبین شوق پر لکھتا گیا اسے وہ بھی نگاہ ناز سے پڑھتا رہا مجھے اس کی خرام ناز پہ مرتے رہے سبھی لیکن نقوش لعل میں دیکھا گیا مجھے وہ ضم ہوئے کچھ ایسے مری کائنات میں وہ ہی ملیں گے تم سے جو دو گے صدا مجھے اک پھول ...

مزید پڑھیے

بعد مدت کے مرے آنکھ سے آنسو نکلے

بعد مدت کے مرے آنکھ سے آنسو نکلے خشک صحرا میں جو پانی گرے خوشبو نکلے اشک سوکھے ہوئے گالوں پہ کجی سے نکلے رقص کرتے ہوئے صحراؤں میں آہو نکلے تیرے دیوانے کے دیوانوں کے دیوانے ہیں تیری کیا بات کریں باتوں سے خوشبو نکلے تیرے میخانے میں جو آج اچھالا ساغر ایک قطرے کے مرے سیکڑوں پہلو ...

مزید پڑھیے

پھول کھلے ہیں موسم بدلا صحرا کے ویرانوں کا

پھول کھلے ہیں موسم بدلا صحرا کے ویرانوں کا قطرہ قطرہ خون جو ٹپکا زخموں سے دیوانوں کا بہل بہل کے عشق میں نازک دل ٹوٹا دیوانوں کا تب کچھ کام چلا آنکھوں کے دریا میں طوفانوں کا غم کی مے میں غم کا قصہ خوب چھڑا افسانوں کا دکھ میں دل کا درد ہے دہرا دیوانے دیوانوں کا فرش کا قصہ جیوں ...

مزید پڑھیے

یار کی محفل سجی مے کی مہک چھانے لگی

یار کی محفل سجی مے کی مہک چھانے لگی ذہن و دل میں یہ کہاں سے روشنی آنے لگی آ گلے لگ جا مرے شمشیر قاتل اس دفع عید کیوں ہر بار میری رائیگاں جانے لگی تیرا شکوہ ہے حنا ہاتھوں پہ کیوں چڑھتی نہیں اتنی مدت ہو گئی جب تو مرے شانے لگی دن گزارے تھے یہ کہہ کر اب نہ سوچوں گا اسے پھر بہار عید ...

مزید پڑھیے

ذوق سخن کو اب تو تیرے آگ لگانا اچھا ہے

ذوق سخن کو اب تو تیرے آگ لگانا اچھا ہے مفلس گھر کی حالت ہے اور شعر سنانا اچھا ہے میری سچی چاہت دیکھی کہہ بیٹھا وہ محفل میں میرے سب دیوانوں میں سے یہ دیوانہ اچھا ہے تیر نظر سے ایسا مارے دل کا پنچھی تاب نہ لے دنیا گھر کے صیادوں سے اس کا نشانہ اچھا ہے شیخ تو مسجد میں جاتا ہے اندر سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1117 سے 6203