قومی زبان

اڑے ہیں ہوش میرے اس خبر سے

اڑے ہیں ہوش میرے اس خبر سے نہیں ہے واسطہ اب تیرے در سے ابھی کتنی سزائیں اور دے گا نہ مر جاؤں کہیں میں تیرے ڈر سے بہت باقی ہے برسوں کا تقاضہ ذرا تم لوٹ کے آؤ سفر سے بھروسے کے یہاں ہے کون قابل بشر بہتر کہاں ہے جانور سے مجھے جینا ہے ان بچوں کی خاطر نکلنا ہے خیالوں کے بھنور سے بھلا ...

مزید پڑھیے

ہم کو عادت قسم نبھانے کی

ہم کو عادت قسم نبھانے کی ان کی فطرت ہے بھول جانے کی سر جھکا کر میں کیوں نہیں جیتی بس شکایت یہی زمانے کی اس کی شرطوں پہ مجھ کو ہے جینا کیسی دیوانگی دوانے کی اس کو نفرت ہے یا محبت ہے پھر ضرورت ہے آزمانے کی بعد مرنے کے لے کے جاؤں گی آرزو اپنے آشیانے کی میں تو یوں بھی سلگ رہی ...

مزید پڑھیے

آپ کی آنکھوں کا تارہ اور ہے

آپ کی آنکھوں کا تارہ اور ہے کیا ہوا میرا سہارا اور ہے اک ندی کے دو کناروں کی طرح راستہ میرا تمہارا اور ہے جانے اب کیسی خبر یہ لائیں گی ان ہواؤں کا اشارہ اور ہے آپ مرہم ہی لگاتے رہ گئے کیا کہیں یہ درد سارا اور ہے آپ کی بدلی نگاہیں کہہ رہیں اب نہیں میرا گزارا اور ہے پوچھنے والوں ...

مزید پڑھیے

شکایت

مجھے تم سے شکایت ہے کہ تم نے عمر بھر مجھ کو خبر یہ بھی نہ ہونے دی تمہیں مجھ سے محبت تھی

مزید پڑھیے

ڈک لائن

میں جینے کی تمنا لے کے اٹھتی ہوں مگر جب دن گزرتا ہے سنہری دھوپ کی کرنیں کسی دریا کنارے پر اترتی شام کے بکھرے ہوئے چمکیلے بالوں سے لپٹ کر سونے لگتی ہیں ہوا بیزار ہو کر پھر تھکے پنچھی کی بانہوں میں سمٹ کر بیٹھ جاتی ہے زمیں کا شور بھی تب رفتہ رفتہ ماند پڑتا ہے فلک کے آخری کونے پہ جس ...

مزید پڑھیے

اثاثہ

میں اپنی قیمتی چیزیں بھی اکثر بھول جاتی ہوں کہیں بھی جا کے ٹھہروں میں کسی کے پاس بھی جاؤں کبھی ٹیرس کبھی آنگن کبھی کمرے میں بھی اکثر کچھ اپنی پچھلی یادوں کو کبھی کچھ چاند راتوں کو اور اکثر ادھ بنے سے کچھ ادھورے خواب کے گچھے وہیں پر چھوڑ آتی ہوں میں اکثر بھول جاتی ہوں وہ جو میں ...

مزید پڑھیے

بادل

چلو اتنا تو ہو پایا کہ تم نے بادلوں کے چند ٹکڑوں کو ہمارے پاس بھیجا ہے ہماری پیاس کی خاطر ذرا سی آس بھیجی ہے چٹختے اور پیاسے نیلے ہونٹوں کو تصور میں خیالوں میں کسی بے وصل اور بے موسمی غم کی نمی کا نرم گیلا اور گلابی سا کوئی احساس تو ہوگا جسے میں نے دعا کی شاخ سے باندھا ہوا ہے اب بدن ...

مزید پڑھیے

پرندہ

بہت سفاک ہو تم بھی محبت ایسے کرتے ہو کہ جیسے گھر کے پنجرے میں پرندہ پال رکھا ہو

مزید پڑھیے

ہیلو

کسی نے یہ بتایا تھا کہ بس تم آنے والے ہو بہت اچھا کیا تم نے مرا یہ بوجھ کم ہوگا تمہاری چند چیزیں تھیں ذرا ٹھہرو مجھے کچھ یاد کرنے دو ہوں ہاں وفا کی بے اثر قسمیں محبت کے کئی دعوے بہت بے ربط باتوں کے کئی ٹوٹے ہوئے ٹکڑے ہنسی کا کھوکھلا پن بھی پرانے سے کئی جھوٹے بہانوں کے ذرا کچھ ...

مزید پڑھیے

اک بار مل کے وہ مرے سب خواب لے گیا

اک بار مل کے وہ مرے سب خواب لے گیا آنکھوں سے میری ساری تب و تاب لے گیا گہرے سمندروں میں جو اترا تھا ایک بار موتی وہ سارے ڈھونڈ کے نایاب لے گیا پہلے بجھائے اس نے مرے گھر کے سب چراغ پھر میرے آسمان سے مہتاب لے گیا آیا تو اس کے ساتھ مری زندگی بھی تھی جاتے ہوئے وہ زیست کے اسباب لے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1084 سے 6203