قومی زبان

کیا کریں گلشن پہ جوبن زیر دام آیا تو کیا

کیا کریں گلشن پہ جوبن زیر دام آیا تو کیا کیا توقع انقلاب نو نظام آیا تو کیا اب یہ تاثیر محبت پر قصیدہ کیا ضرور جذبۂ بے تابیٔ دل تھا جو کام آیا تو کیا آنکھ سے دل کی طرف دوڑے وہ مے پیتے ہیں ہم ہم وہ میکش ہیں کہ ساقی لے کے جام آیا تو کیا ضعف اپنا توڑنے دیتا ہے زنجیریں کہیں ہم میں دم ...

مزید پڑھیے

راستے منزلوں کے بنی زندگی

راستے منزلوں کے بنی زندگی تو کبھی راستے میں ملی زندگی ریت سی مٹھیوں سے پھسلتی رہی قطرہ قطرہ پگھلتی رہی زندگی اس زمانہ کو پیغام دے جائے گی چاہے اچھی ہو یا پھر بری زندگی میری رہبر بھی ہے میری ہم راز بھی دے رہی ہے نصیحت تبھی زندگی ہر طرف ڈھیر لاشوں کے دکھنے لگے حادثوں میں بنی ...

مزید پڑھیے

انہیں اب کوئی آئنا دیجئے

انہیں اب کوئی آئنا دیجئے ذرا اصلی صورت دکھا دیجئے بٹھائے ہیں پہرے بہت آپ نے زباں پہ بھی تالا لگا دیجئے وچاروں سے ہی وہ تو بیمار ہیں کوئی سوچ کی اب دوا دیجئے سزا ہی سہی کچھ تو دے جائیے وفاؤں کا اب تو صلہ دیجئے جو انساں سے انساں کو واقف کرے ہمیں کوئی ایسا خدا دیجئے محبت ہے یہ ...

مزید پڑھیے

جس کو لگتا ہے گمشدہ ہوں میں

جس کو لگتا ہے گمشدہ ہوں میں جان لے مجھ کو زلزلہ ہوں میں میں بچاتی ہوں بد دعاؤں سے ماں کی بھیجی ہوئی دعا ہوں میں کھو گیا جو گھنے اندھیروں میں اس اجالے کا راستہ ہوں میں مجھ کو پہچان میرے ناز اٹھا تیرا اپنوں سے رابطہ ہوں میں نفرتوں نے دیے ہیں جو تم کو ایسے ہر درد کی دوا ہوں ...

مزید پڑھیے

جذبۂ محبت کو تیر بے خطا پایا

جذبۂ محبت کو تیر بے خطا پایا میں نے جب اسے دیکھا دیکھتا ہوا پایا جانتے ہو کیا پایا پوچھتے ہو کیا پایا صبح دم دریچے میں ایک خط پڑا پایا دیر میں پہنچنے پر بحث تو ہوئی لیکن اس کی بے قراری کو حسب مدعا پایا صبح تک مرے ہمراہ آنکھ بھی نہ جھپکائی میں نے ہر ستارے کو درد آشنا پایا گریۂ ...

مزید پڑھیے

حدود اکل و شرب کا سوال ہی نہیں رہا

حدود اکل و شرب کا سوال ہی نہیں رہا دلوں میں خوف رب ذو الجلال ہی نہیں رہا مآل عرض حال کا ملال ہی نہیں رہا وہ بزم غیر تھی مجھے خیال ہی نہیں رہا جبھی تو باغباں کی گفتگو میں جھول دیکھتے کبھی کسی طرح کا احتمال ہی نہیں رہا یہ وسوسہ کی بات اپنے منہ سے مت نکالئے کوئی شریک حال پر ملال ہی ...

مزید پڑھیے

وقت کیا شے ہے پتہ آپ ہی چل جائے گا

وقت کیا شے ہے پتہ آپ ہی چل جائے گا ہاتھ پھولوں پہ بھی رکھو گے تو جل جائے گا جس کو محفل سے نکالو گے نکل جائے گا مگر ادبار تو ادبار ہے ٹل جائے گا کہیں فطرت کے تقاضے بھی بدل سکتے ہیں گھاس پر شیر جو پالو گے تو پل جائے گا کہہ دیا تھا کہ یہ رہبر جو چنا ہے تم نے صاف طوطے کی طرح آنکھ بدل ...

مزید پڑھیے

رابطہ

جانتے تو ہو گے تم اتنی تیز بارش میں رابطے نہیں رہتے نیٹ ورک نئیں ملتا فون کی بھی لائنیں بارشوں کے پانی سے ایسے ٹوٹ جاتی ہیں جس طرح محبت میں بے وفا کی باتوں سے دل ہی ٹوٹ جائے تو رابطے نہیں رہتے

مزید پڑھیے

یہ دسمبر ہے

سنو میں جانتی ہوں یہ دسمبر ہے وہاں سردی بہت ہوگی اکیلے شام کو جب تم تھکے قدموں سے لوٹو گے تو گھر میں کوئی بھی لڑکی سلگتی مسکراہٹ سے تمہاری اس تھکاوٹ کو تمہارے کوٹ پر ٹھہری ہوئی بارش کی بوندوں کو سمیٹے گی نہ جھاڑے گی نہ تم سے کوٹ لے کر وہ کسی کرسی کے ہتھے پر اسے لٹکا کے اپنے نرم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1083 سے 6203