قومی زبان

جس سے وفا کی تھی امید اس نے ادا کیا یہ حق

جس سے وفا کی تھی امید اس نے ادا کیا یہ حق اوروں سے ارتباط کی اور مجھے دیا قلق تیری جفا وفا سہی میری وفا جفا سہی خون کسی کا بھی نہیں تو یہ بتا ہے کیا شفق مصحف رخ ہی درد تھا اور نہ تھا کوئی خیال عشق نے خود پڑھا دیا حسن کا ایک اک ورق اور تو ہیں روایتیں مذہب عشق ہے صحیح روز عطا ہو شوق ...

مزید پڑھیے

جب سبق دے انہیں آئینہ خود آرائی کا

جب سبق دے انہیں آئینہ خود آرائی کا حال کیوں پوچھیں بھلا وہ کسی سودائی کا محو ہے عکس دو عالم مری آنکھوں میں مگر تو نظر آتا ہے مرکز مری بینائی کا دونوں عالم رہے آغوش کشا جس کے لیے میں نے دیکھا ہے وہ عالم تری انگڑائی کا آئینہ دیکھ کر انصاف سے کہہ دے ظالم کیا مرا عشق ہے موجب مری ...

مزید پڑھیے

داور نے بندے بندوں نے داور بنا دیا

داور نے بندے بندوں نے داور بنا دیا ساگر نے قطرے قطروں نے ساگر بنا دیا بیتابیوں نے دل کی بامید شرح شوق اس جاں نواز کو بھی ستم گر بنا دیا پہلی سی لذتیں نہیں اب درد عشق میں کیوں دل کو میں نے ظلم کا خوگر بنا دیا کیفیت شباب سے معذور کچھ ہوئے کچھ عاشقوں نے بھی انہیں خود سر بنا ...

مزید پڑھیے

عاشق کی جان جاتی ہے اس بانکپن کو چھوڑ

عاشق کی جان جاتی ہے اس بانکپن کو چھوڑ اے بت خدا کے واسطے اپنے چلن کو چھوڑ بلبل نہ رحم آئے گا صیاد کو کبھی ہے جان اگر عزیز تو تو اس چمن کو چھوڑ اس کا یہی طریق رہا عاشقوں کے ساتھ اے دل بس اب شکایت چرخ کہن کو چھوڑ صحرا کی سمت پاؤں بڑھے جاتے ہیں دل آ وحشت پکارتی ہے کہ حب الوطن کو ...

مزید پڑھیے

ابھی تک ان کے وہی ستم ہیں جفا کی خو بھی نہیں گئی ہے

ابھی تک ان کے وہی ستم ہیں جفا کی خو بھی نہیں گئی ہے وہ رنجشیں بھی نہیں گئی ہیں وہ گفتگو بھی نہیں گئی ہے نشیمن اپنا اٹھا نہ یاں سے خزاں جو آئی تو آئی بلبل بہار رخصت ابھی ہوئی ہے گلوں کی بو بھی نہیں گئی ہے گئی جوانی تو جائے دلبر مجھے ہے الفت ہنوز باقی وہ التجا بھی نہیں گئی ہے وہ ...

مزید پڑھیے

ہر ایک پہ یہ راز بھی افشا نہیں ہوتا

ہر ایک پہ یہ راز بھی افشا نہیں ہوتا اچھا جو نظر آتا ہے اچھا نہیں ہوتا روتے ہو بھلا کس لیے جب جانتے ہو تم یہ عشق ہے اس عشق میں کیا کیا نہیں ہوتا امید روا رکھتے ہو ہر ایک سے کیوں کر ہر شخص زمانے میں مسیحا نہیں ہوتا کرتا ہے جو ہر بات پہ سچائی کا دعویٰ سچ بات تو یہ ہے کہ وہ سچا نہیں ...

مزید پڑھیے

ہر کسی آنکھ کا بدلہ ہوا منظر ہوگا

ہر کسی آنکھ کا بدلہ ہوا منظر ہوگا شہر در شہر مسیحاؤں کا لشکر ہوگا آئنہ رو ہے اگر دل تو حفاظت کیجے کس کو معلوم ہے کس ہاتھ میں پتھر ہوگا لے کے پیغام خزاں آیا ہے میرے در پہ وہ جو کہتا تھا کہ آنگن میں صنوبر ہوگا پھر سیاست کی مہک آنے لگی ہے مجھ کو جانے اب کون مرے شہر میں بے گھر ...

مزید پڑھیے

تکمیل عشق جب ہو کہ صحرا بھی چھوڑ دے

تکمیل عشق جب ہو کہ صحرا بھی چھوڑ دے مجنوں خیال محمل لیلا بھی چھوڑ دے کچھ اقتضائے دل سے نہیں عقل بے نیاز تنہا یہ رہ سکے تو وہ تنہا بھی چھوڑ دے یا دیکھ زاہد اس کو پس پردۂ مجاز یا اعتبار دیدۂ بینا بھی چھوڑ دے کچھ لطف دیکھنا ہے تو سودائے عشق میں اے سرفروش سر کی تمنا بھی چھوڑ دے وہ ...

مزید پڑھیے

حسینوں کے تبسم کا تقاضا اور ہی کچھ ہے

حسینوں کے تبسم کا تقاضا اور ہی کچھ ہے مگر کلیوں کے کھلنے کا نتیجہ اور ہی کچھ ہے نگاہیں مشتبہ ہیں میری پاکیزہ نگاہوں پر مرے معصوم دل پر ان کو دھوکا اور ہی کچھ ہے حسینوں سے محبت ہے انہیں پر جان دیتا ہوں مرا شیوہ ہے یہ لیکن زمانا اور ہی کچھ ہے بھلا کیا ہوش آئے گا بجھے گی کیا لگی دل ...

مزید پڑھیے

فرشتے بھی پہنچ سکتے نہیں وہ ہے مکاں اپنا

فرشتے بھی پہنچ سکتے نہیں وہ ہے مکاں اپنا ٹھکانا ڈھونڈے دور زمیں و آسماں اپنا خدا جبار ہے ہر بندہ بھی مجبور و تابع ہے دو عالم میں نظر آیا نہ کوئی مہرباں اپنا نگاہ مضطرب پھر ڈھونڈتی ہے کس کو ہر شے میں زمین اپنی عزیز اپنے خدائے دو جہاں اپنا گزرنے کو تو گزرے جا رہے ہیں راہ ہستی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1073 سے 6203