جس سے وفا کی تھی امید اس نے ادا کیا یہ حق
جس سے وفا کی تھی امید اس نے ادا کیا یہ حق اوروں سے ارتباط کی اور مجھے دیا قلق تیری جفا وفا سہی میری وفا جفا سہی خون کسی کا بھی نہیں تو یہ بتا ہے کیا شفق مصحف رخ ہی درد تھا اور نہ تھا کوئی خیال عشق نے خود پڑھا دیا حسن کا ایک اک ورق اور تو ہیں روایتیں مذہب عشق ہے صحیح روز عطا ہو شوق ...