قومی زبان

خط دیکھیے دیدار کی سوجھی یہ نئی ہے

خط دیکھیے دیدار کی سوجھی یہ نئی ہے ویفر کی جگہ آنکھ لفافے پہ لگی ہے خاکستر تن خیر ہو برباد ہوئی ہے اڑتی یہ خبر گرد پریدہ سے سنی ہے ہم خوابیٔ جاناں مری قسمت میں لکھی ہے سوتے میں زلیخا کی طرح آنکھ لگی ہے لو عشق کی وہ ہے کہ پتنگے کو جلا کر سر میں جو لگی شمع کے تلوے میں بجھی ہے مٹ ...

مزید پڑھیے

اہل ایماں سے نہ کافر سے کہو

اہل ایماں سے نہ کافر سے کہو اے بتو لیکن خدا لگتی کہو گر ملیں یاران رفتہ پوچھیے مر گئے پر کس طرح گزری کہو پائمالو عشق میں کیوں کر کٹی کوہ کن سے سرگزشتے اپنی کہو چشم تر پر دجلہ و جیحوں میں کیا ابر سی چھا جائے جو پھبتی کہو شمع و پروانہ جو پوچھیں سوز عشق اپنی بیتی یا مری بیتی ...

مزید پڑھیے

سنا ہم کو آتے جو اندر سے باہر

سنا ہم کو آتے جو اندر سے باہر پھرے الٹے پیروں باہر سے باہر کڑی میں نہ دے ساتھ یار دلی تک شرر چوٹ کھا کر ہو پتھر سے باہر یوں ہی کالعدم ہم میان لحد تھے مٹایا نشاں اس پہ ٹھوکر سے باہر نہ کر ہرزہ گردی جو ذی آبرو ہے نکلتا نہیں آئنہ گھر سے باہر جناں سے ہوئی مدت آدم کو نکلے وطن سے ہوں ...

مزید پڑھیے

تصویر مری ہے عکس ترا تو اور نہیں میں اور نہیں

تصویر مری ہے عکس ترا تو اور نہیں میں اور نہیں کر غور تو اپنے دل میں ذرا تو اور نہیں میں اور نہیں تسبیح نے جس دم فخر کیا دانوں میں وہیں ڈورے کو دکھا زنار نے اس رشتے سے کہا تو اور نہیں میں اور نہیں اس باغ میں تو اے برگ حنا ہنسنے پہ مرے زخموں کے نہ جا رونے میں لہو خنداں ہوں کیا تو اور ...

مزید پڑھیے

وہ مے پرست ہوں بدلی نہ جب نظر آئی

وہ مے پرست ہوں بدلی نہ جب نظر آئی سمٹ گئیں جو سیہ کاریاں گھٹا چھائی سفید بال ہوئے شب ہوئی جوانی کی دمیدہ صبح ہوئی چونک سر پہ دھوپ آئی حرم میں خاک ہوا ہوں وہ عاشق برباد میان دیر ہواے بتاں اڑا لائی میں وہ ہوں بلبل باغ جہاں کوئی گل ہو دیا دل اس کو محبت کی جس میں بو پائی چمن میں جا ...

مزید پڑھیے

لب جاں بخش پر جو نالہ ہے

لب جاں بخش پر جو نالہ ہے اب مسیحا بھی مرنے والا ہے خون تھوکا مدام صورت زخم دل ناصور اب تک آلا ہے رو رہا ہوں مثل ابر بہار دونگڑا مینہ کا ہے نہ جھالا ہے وہ بلانوش رنج و محنت ہوں غم کونین اک نوالا ہے ہر قدم پر ہیں سیکڑوں پامال سرکشوں کا چلن نرالا ہے ہر مژہ پر رواں ہیں کودک اشک نے ...

مزید پڑھیے

عشق رخ و زلف میں کیا کوچ

عشق رخ و زلف میں کیا کوچ شب آ کے رہا سحر کیا کوچ خیاط نفس کا ہے بجا کوچ درزی کا ہے کیا مقام کیا کوچ جب موج رواں کہیں نہ ٹھہری دم لے کے حباب کر گیا کوچ ہر دم ہے روا نہ عمر انساں ہر ایک نفس ہے کر رہا کوچ پروانہ جلا تو شمع بولی تیرا ہے ادھر ادھر مرا کوچ وہ سوزن ساعت رواں ہوں کرتی ہے ...

مزید پڑھیے

جو بیچ میں آئنہ ہو پیارے ادھر ہمارے ادھر تمہارے

جو بیچ میں آئنہ ہو پیارے ادھر ہمارے ادھر تمہارے تو پھر ہوں باہم دگر نظارے ادھر ہمارے ادھر تمہارے جو کچھ گزرتی ہے دل پہ پیارے ادھر ہمارے ادھر تمہارے کہیں وہ کس سے عدو ہیں سارے ادھر ہمارے ادھر تمہارے چلے وہ باد مراد ہمدم جو بحر غم سے نکالے باہم خوشی کے بجرے لگیں کنارے ادھر ہمارے ...

مزید پڑھیے

شکل مژگاں نہ خار کی سی ہے

شکل مژگاں نہ خار کی سی ہے ہم نے تاڑی کٹار کی سی ہے ہنس کے کہتے ہیں بوسہ بازی میں جیت بھی اپنی ہار کی سی ہے عشق مژگاں میں ہم نے کانٹوں سے سوزنی جسم زار کی سی ہے اس پہ عالم فریب ہے دنیا پھوس بڑھیا مدار کی سی ہے گرم رفتار ہے وہ جانے میں مجھ کو آمد نجار کی سی ہے اپنی آنکھوں میں ہر ...

مزید پڑھیے

سدا رنگ مینا چمکتا رہا

سدا رنگ مینا چمکتا رہا ہمیشہ یہ سبزہ لہکتا رہا وہ کوچہ ہے الفت کا جس میں سدا خضر راہ بھولا بھٹکتا رہا کھلا یہ جہاں پردۂ در ہلا جہاں جو رہا سر پٹکتا رہا بتا لاغری سے ہے پر بال بھی میں آنکھوں میں سب کی کھٹکتا رہا لبالب یہاں ہو چکا جام عمر وہاں ساغر مے چھلکتا رہا برستی رہی قبر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1049 سے 6203