خط دیکھیے دیدار کی سوجھی یہ نئی ہے
خط دیکھیے دیدار کی سوجھی یہ نئی ہے ویفر کی جگہ آنکھ لفافے پہ لگی ہے خاکستر تن خیر ہو برباد ہوئی ہے اڑتی یہ خبر گرد پریدہ سے سنی ہے ہم خوابیٔ جاناں مری قسمت میں لکھی ہے سوتے میں زلیخا کی طرح آنکھ لگی ہے لو عشق کی وہ ہے کہ پتنگے کو جلا کر سر میں جو لگی شمع کے تلوے میں بجھی ہے مٹ ...