جو گزرے ہے بر عاشق کامل نہیں معلوم
جو گزرے ہے بر عاشق کامل نہیں معلوم جبریل ہے ہر آن میں نازل نہیں معلوم کیا پردۂ غفلت ہے کچھ اے دل نہیں معلوم رہتا ہے شب و روز وہ نازل نہیں معلوم ہر دم یہی رہتا ہے یہاں دل میں پس و پیش جینے کا بجز مرگ کچھ حاصل نہیں معلوم رخ دیکھ کے حیراں ہوں ترا جوں گل خورشید چھٹ تیرے مجھے کوئی ...