گو سیہ بخت ہوں پر یار لبھا لیتا ہے
گو سیہ بخت ہوں پر یار لبھا لیتا ہے شکل سایہ کے مجھے ساتھ لگا لیتا ہے گو ملاقات نہیں عالم بیداری میں خواب میں پر وہ ہمیں ساتھ سلا لیتا ہے اشک کو ٹک بن مژگاں میں ٹھہرنے دے دلا یہ ترا دیکھ تو ہاں دیکھ تو کیا لیتا ہے راہیٔ ملک عدم سے نہ کر اتنی کاوش دم مسافر یہ تہ نخل ذرا لیتا ...