قومی زبان

قربت حسن میں بھی درد کے آثار ملے

قربت حسن میں بھی درد کے آثار ملے چارہ گر عشق کے مرہم کے طلب گار ملے دست و پا اپنے تو وابستۂ زنجیر سہی اک تمنا تھی کوئی صاحب و مختار ملے ہاں جنوں خیزیٔ دل رہن مسرت نہ ہوئی خوش ہوئی وحشت غم جب رسن و دار ملے خاک اڑائیں کہ نئے شہر بسائیں یارو ہم بہ ہر رنگ ہر اک شوق سے بیزار ملے ہم ...

مزید پڑھیے

کس راہ پہ ہیں رواں دواں ہم

کس راہ پہ ہیں رواں دواں ہم جائیں گے خبر نہیں کہاں ہم اک بار فریب کھا گئے تھے اب تک ہیں کسی سے بد گماں ہم یوں تیری نگاہ سے گرے ہیں گویا تھے متاع رائیگاں ہم رستوں کی خبر نہ منزلوں کی کیا جانئے آ گئے کہاں ہم دل میں تھیں کچھ ایسی حسرتیں بھی تجھ سے جو نہ کر سکے یہاں ہم گزری ہے قفس ...

مزید پڑھیے

بیگانہ ملے ہے جب ملے ہیں

بیگانہ ملے ہے جب ملے ہیں یاروں سے ہمیں بہت گلے ہیں یاد آئے ہیں دوستوں کے میلے جب پھول چمن چمن کھلے ہیں شاکی ہوں میں جن کی بے رخی کا اکثر وہی بے طلب ملے ہیں یہ داغ یہ زخم بے کسی کے شاید تری چاہ کے صلے ہیں اس طرح چھٹی کہ پھر نہ آئی ہم کو تری یاد سے گلے ہیں گزرے ہیں نظر بچا کے ...

مزید پڑھیے

ہمارے حال پہ کس دن جفا نہیں کرتے

ہمارے حال پہ کس دن جفا نہیں کرتے یہ اور بات کہ وہ برملا نہیں کرتے یہ رنگ و نور کی دنیا نظر نواز سہی ترے فقیر مگر اعتنا نہیں کرتے ضرور کوئی خطا ہم سے ہو گئی ہوگی وہ بے سبب تو کسی پر جفا نہیں کرتے کبھی تو ان کو ہمارا خیال آئے گا ہم اس امید پہ ترک وفا نہیں کرتے انہیں سے ہم کو محبت ...

مزید پڑھیے

حسرت یہی دل میں لے چلے ہم

حسرت یہی دل میں لے چلے ہم تجھ کو نہ لگا سکے گلے ہم نکلے ہیں وطن سے منہ اندھیرے معلوم نہیں کہاں چلے ہم ہر حال رہے تجھی سے منسوب اے دوست برے تھے یا بھلے ہم حائل تھے جو اپنے راستے میں طے کر نہ سکے وہ مرحلہ ہم شفقتؔ بہ ہجوم یاس و حرماں دیکھا کیے دل کے حوصلہ ہم

مزید پڑھیے

برسی ہیں وہ آنکھیں کہ نہ بادل کبھی برسے

برسی ہیں وہ آنکھیں کہ نہ بادل کبھی برسے اندازۂ غم کیا ہو مگر دیدۂ تر سے وہ چارہ گری تھی کہ عزیزوں کی دعائیں لوٹ آئی ہیں ماتم کے لیے باب اثر سے اک جبر مسلسل ہے عناصر کی کہانی مختار کہے جاتے تھے جب نکلے تھے گھر سے شاید کوئی منزل نہیں اس راہ میں پڑتی واپس نہیں آتا کوئی یادوں کے سفر ...

مزید پڑھیے

ہمارے پاس تھا جو کچھ لٹا کے بیٹھ رہے

ہمارے پاس تھا جو کچھ لٹا کے بیٹھ رہے دیار دل میں قیامت اٹھا کے بیٹھ رہے وہاں جہاں پر اندھیروں کا کارواں اترا کسی امید پہ شمعیں جلا کے بیٹھ رہے تمہارے ہجر میں جو کچھ گزر گئی گزری تمہارے وصل میں ہم گھر جلا کے بیٹھ رہے کہاں کے دار و رسن اور کیا شہید وفا یہ کاروبار بھی کل پھر اٹھا ...

مزید پڑھیے

تصویر اضطراب سراپا بنا ہوا

تصویر اضطراب سراپا بنا ہوا پھرتا ہوں شہر شہر انہیں ڈھونڈھتا ہوا اک درد اور وہ بھی کسی کا دیا ہوا اتنا بڑھا کہ آپ ہی اپنی دوا ہوا مل کر بچھڑ گیا تھا کوئی جس مقام پر اب تک اسی مقام پہ ہوں چپ کھڑا ہوا جیسے اسے خبر تھی مرے حال زار کی گزرا وہ اس ادا سے مجھے دیکھتا ہوا جن حادثات دہر ...

مزید پڑھیے

ہر گھڑی کرب مسلسل میں کٹی جاتی ہے

ہر گھڑی کرب مسلسل میں کٹی جاتی ہے زندگی اپنے گناہوں کی سزا پاتی ہے یاد آؤں کہ نہ آؤں مری قسمت لیکن ان سے امید ملاقات چلی جاتی ہے یوں مرے بعد ہے دنیا پہ اداسی طاری جیسے دنیا مرے حالات کا غم کھاتی ہے جب بھی آتا ہے تصور ترے انسانوں کا ایک فریاد مرے منہ سے نکل جاتی ہے خوش رہو دشت ...

مزید پڑھیے

جو بایں غم بھی شادماں گزری

جو بایں غم بھی شادماں گزری جانے وہ زندگی کہاں گزری دل سے اندیشۂ خزاں نہ گیا گو بہاروں کے درمیاں گزری جتنی مدت میں ان سے دور رہا اتنی مدت بلائے جاں گزری یاد رکھیں گے آسماں والے مجھ پہ جو زیر آسماں گزری تھی مرے ان کے درمیاں جو بات وہ زمانے پہ کیوں گراں گزری کس کو معلوم تلخیاں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1004 سے 6203