شاعری

کچے رنگوں کا موسم

گھر سے بستہ اور ٹفن کے ساتھ نکلنا مکتب کو آدھے ہی رستے سے گھوم کے واپس آنا شام ڈھلے تک کھیلنا کودنا جھگڑے کرنا پھر مل جانا باغ سے جا کر آم چرانا پکڑے جانا گھر پر آ کر ڈانٹیں سننا کبھی کبھی تھپڑ بھی کھانا گنے کے مرجھائے اور کالے پھولوں سے نقلی داڑھی مونچھ بنانا چھپ کر جوٹھی بیڑی ...

مزید پڑھیے

ماں کے انتقال پر

اللہ جی ہم سو نہیں پاتے امی کو کب بھیجو گے نانی کہتی ہیں تم ہم سے روٹھے ہو لیکن اب ہم روزانہ مکتب جائیں گے تم کو تختی پر لکھیں گے اسلم مسٹر گندے ہیں ان کے ساتھ نہیں کھلیں گے اللہ جی اب مان بھی جاؤ چاہو تو امی کے بدلے ہم سے ساری چیزیں لے لو گیند بھی لے لو اور گولی بھی لٹو اور غلیل بھی ...

مزید پڑھیے

جھوٹی محبت

تمہارا میں ہوں مرے تم ہو اچھے جملے ہیں مگر یہ بات بہت دور ہے صداقت سے کہیں سے تم ہو ادھورے کہیں سے خالی میں تم اپنے طور مجھے استعمال کرتے ہو میں اپنے طور تمہیں استعمال کرتا ہوں یہ زندگی ہے یہاں گھات میں ہے ہر کوئی سب اپنی اپنی ضرورت میں چھپ کے بیٹھے ہیں کہیں نہیں ہے محبت فریب ہے سب ...

مزید پڑھیے

قدم اٹھے ہیں تو دھول آسمان تک جائے

قدم اٹھے ہیں تو دھول آسمان تک جائے چلے چلو کہ جہاں تک بھی یہ سڑک جائے نظر اٹھاؤ کہ اب تیرگی کے چہرے پر عجب نہیں کہ کوئی روشنی لپک جائے گداز جسم سے پھولوں پہ انگلیاں رکھ دوں یہ شاخ اور ذرا سا اگر لچک جائے کبھی کبھار ترے جسم کا اکیلا پن مرے خیال کی عریانیت کو ڈھک جائے ترے خیال کی ...

مزید پڑھیے

مجھ پہ ہیں سیکڑوں الزام مرے ساتھ نہ چل

مجھ پہ ہیں سیکڑوں الزام مرے ساتھ نہ چل تو بھی ہو جائے گا بدنام مرے ساتھ نہ چل تو نئی صبح کے سورج کی ہے اجلی سی کرن میں ہوں اک دھول بھری شام مرے ساتھ نہ چل اپنی خوشیاں مرے آلام سے منسوب نہ کر مجھ سے مت مانگ مرا نام مرے ساتھ نہ چل تو بھی کھو جائے گی ٹپکے ہوئے آنسو کی طرح دیکھ اے ...

مزید پڑھیے

راز میں رکھ تری رسوائی کا قصہ میں ہوں

راز میں رکھ تری رسوائی کا قصہ میں ہوں مجھ کو پہچان ترا دوسرا چہرہ میں ہوں دفن ہیں تیرے کئی راز مرے سینے میں جو ترے گھر سے گزرتا ہے وہ رستہ میں ہوں مدتوں بعد بھی جاری ہے عذابوں کا سفر قطرہ قطرہ تری آنکھوں سے ٹپکتا میں ہوں آ ذرا بیٹھ مرے پاس بھی کچھ پل کے لیے میرے ہمدم تری دیوار ...

مزید پڑھیے

درد میں شدت احساس نہیں تھی پہلے

درد میں شدت احساس نہیں تھی پہلے زندگی رام کا بن باس نہیں تھی پہلے ہم بھی سو جاتے تھے معصوم فرشتوں کی طرح اور یہ رات بھی حساس نہیں تھی پہلے ہم نے اس بار تجھے جسم سے ہٹ کر سوچا شاعری روح کی عکاس نہیں تھی پہلے تیری فرقت ہی اداسی کا سبب ہے اب کے تیری قربت بھی ہمیں راس نہیں تھی ...

مزید پڑھیے

چڑھا ہوا ہے جو دریا اترنے والا ہے

چڑھا ہوا ہے جو دریا اترنے والا ہے اب اس کہانی کا کردار مرنے والا ہے یہ آگہی ہے کسی حادثے کے آمد کی بدن کا سارا اثاثہ بکھرنے والا ہے ذرا سی دیر میں زنجیر ٹوٹ جائے گی جنون اپنی حدوں سے گزرنے والا ہے سنا ہے شہر میں آیا ہے جادو گر کوئی تمام شہر کو تصویر کرنے والا ہے تمام شہر بنایا ...

مزید پڑھیے

ہوا نہ ختم عذابوں کا سلسلہ اب تک

ہوا نہ ختم عذابوں کا سلسلہ اب تک خزاں کی زد میں بھی اک پھول ہے ہرا اب تک ملا تھا زہر جو ورثے میں پی رہے ہیں ہم نہ اس نے صلح کی سوچی نہ میں جھکا اب تک یہ سچ ہے وہم کے دلدل سے لوٹ آیا ہوں مگر یقین کا دھندلا ہے آئنہ اب تک انہی غموں کا وہ اک دن حساب مانگے گا فلک سے جو مرے کشکول میں پڑا ...

مزید پڑھیے

ہر گھڑی چشم خریدار میں رہنے کے لیے

ہر گھڑی چشم خریدار میں رہنے کے لیے کچھ ہنر چاہئے بازار میں رہنے کے لیے میں نے دیکھا ہے جو مردوں کی طرح رہتے تھے مسخرے بن گئے دربار میں رہنے کے لیے ایسی مجبوری نہیں ہے کہ چلوں پیدل میں خود کو گرماتا ہوں رفتار میں رہنے کے لیے اب تو بدنامی سے شہرت کا وہ رشتہ ہے کہ لوگ ننگے ہو جاتے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 886 سے 5858