شاعری

آخری کھلونے کا ماتم

میں سوتیلا بیٹا اپنے باپ کی تیسری بیوی کا ان تینوں میں پہلے میری ماں آئی پھر میں آیا لیٹا بیٹھا کھڑا ہوا دیوار پکڑ کر چلنا جب آیا تو ماں کو روگ لگا میرے کھلونے سستے اور مٹی کے تھے سب ٹوٹ گئے باری باری سب کی خاطر رویا میں لیکن ماں کے مرنے پر میں رویا نہیں ٹوٹا تھا اور بکھرا تھا جیسے ...

مزید پڑھیے

ڈاکہ

کالے کالے ڈاکو چھت پر دھم دھم کرتے دوڑ رہے ہیں کمروں سے سب بکس اٹھا کر چھت پر لا کر بے رحمی سے توڑ رہے ہیں ان بکسوں میں ایک بڑا سا بکس ہے میری ماں کا بھی جس میں میری شیشے والی گولی کی تھیلی رکھی ہے اس بکسے کے ٹوٹنے پر میں خوش ہوتا ہوں چھت پر جا کر بندوقوں کے سائے میں اپنی سب گولی ...

مزید پڑھیے

سنگاپور

سات سمندر پار گئے ہیں نانا جان دیووں پریوں کا ایک دیس ہے سنگاپور سنگاپور سے جب آئیں گے شیشے کی گولی لائیں گے نئے نئے کپڑے لائیں گے گیند بھی اک خربوزے والی جس میں لال ہرے پیلے سب رنگ رہیں گے لیکن جب میں سوچتا ہوں تو ڈر لگتا ہے دیو کہیں نانا سے میرے ساری چیزیں چھین نہ لیں چھینیں گے ...

مزید پڑھیے

تم آؤ گے

میرے گھر کی دیواریں اب مجھ کو چاٹ رہی ہیں سارے شہر کی مٹی میں جو میرا حصہ تھا وہ بھی لوگوں میں تقسیم ہوا ہے اپنی اس کی قبر پر میری آنکھیں اڑتی دھول کی خوشبو تھامے لٹک کر لیٹ گئی ہیں ایسے سمے اب کون آتا ہے ٹیڑھی ترچھی انگلیوں میں سارے وفا کے دھاگے ہلکے ہلکے ٹوٹ رہے ہیں ہڈیوں کے جلنے ...

مزید پڑھیے

تم مجھے نہیں پاؤ گے

تم سب لوگ مجھے قطرہ قطرہ دریا میں بہا دو میرے وجود کو تار تار کرکے دیکھو پھر بھی تمہیں میری روح تک پہنچنے کے لیے اپنی کمیں گاہوں کے رستے سے گزرنا ہوگا تم مجھے نہیں پاؤ گے اس لیے کہ میں تم میں سے نہیں ہوں مجھے تمہارے گھر صرف ایک آبزرور کی حیثیت سے رکھا گیا ہے تاکہ تمہاری منافقتوں ...

مزید پڑھیے

تجھ کو سوچوں تو ترے جسم کی خوشبو آئے

تجھ کو سوچوں تو ترے جسم کی خوشبو آئے میری غزلوں میں علامت کی طرح تو آئے میں تجھے چھیڑ کے خاموش رہوں سب بولیں باتوں باتوں میں کوئی ایسا بھی پہلو آئے قرض ہے مجھ پہ بہت رات کی تنہائی کا میرے کمرے میں کوئی چاند نہ جگنو آئے لگ کے سوئی ہے کوئی رات مرے سینے سے صبح ہو جائے کہ جذبات پہ ...

مزید پڑھیے

ایک سوراخ سا کشتی میں ہوا چاہتا ہے

ایک سوراخ سا کشتی میں ہوا چاہتا ہے سب اثاثہ مرا پانی میں بہا چاہتا ہے مجھ کو بکھرایا گیا اور سمیٹا بھی گیا جانے اب کیا مری مٹی سے خدا چاہتا ہے ٹہنیاں خشک ہوئیں جھڑ گئے پتے سارے پھر بھی سورج مرے پودے کا بھلا چاہتا ہے ٹوٹ جاتا ہوں میں ہر روز مرمت کر کے اور گھر ہے کہ مرے سر پہ گرا ...

مزید پڑھیے

دھوپ سے بر سر پیکار کیا ہے میں نے

دھوپ سے بر سر پیکار کیا ہے میں نے اپنے ہی جسم کو دیوار کیا ہے میں نے جب بھی سیلاب مرے سر کی طرف آیا ہے اپنے ہاتھوں کو ہی پتوار کیا ہے میں نے جو پرندے مری آنکھوں سے نکل بھاگے تھے ان کو لفظوں میں گرفتار کیا ہے میں نے پہلے اک شہر تری یاد سے آباد کیا پھر اسی شہر کو مسمار کیا ہے میں ...

مزید پڑھیے

دوسرے درجے کی پچھلی قطار کا آدمی

گوشت مچھلی سبزیاں بنیے کا راشن دودھ گھی مجھ کو کھاتی ہیں یہ چیزیں میں نے کب کھایا انہیں میرا گھر رہتا ہے مجھ میں گھر میں میں رہتا نہیں بیوی بچوں کے پھٹے کپڑوں میں ہوں اور نئے جوڑوں کی خوشیوں میں چھپا جو کرب ہے وہ بھی ہوں میں فیس میں اسکول کی کاپی کتابوں میں بھی میں میں ہی ہوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 885 سے 5858