جن کی آنکھوں میں تھا سرور غزل (ردیف .. ے)
جن کی آنکھوں میں تھا سرور غزل ان غزالوں کی یاد آتی ہے سادگی لا جواب تھی جن کی ان سوالوں کی یاد آتی ہے جانے والے کبھی نہیں آتے جانے والوں کی یاد آتی ہے وجدؔ لطف سخن مبارک ہو با کمالوں کی یاد آتی ہے
جن کی آنکھوں میں تھا سرور غزل ان غزالوں کی یاد آتی ہے سادگی لا جواب تھی جن کی ان سوالوں کی یاد آتی ہے جانے والے کبھی نہیں آتے جانے والوں کی یاد آتی ہے وجدؔ لطف سخن مبارک ہو با کمالوں کی یاد آتی ہے
جب وہ مسرور نظر آتا ہے ہر طرف نور نظر آتا ہے میں تو مے خوار ہوں تو کیوں ساقی نشے میں چور نظر آتا ہے قرب سے ہاتھ اٹھایا میں نے تو بڑی دور نظر آتا ہے میں ہی تنہا نہیں دل کے ہاتھوں تو بھی مجبور نظر آتا ہے خاکساری کو چھپانے کے لئے وجدؔ مغرور نظر آتا ہے
ہوش و خرد سے بیگانہ بن جا ہر فصل گل میں دیوانہ بن جا آ دل کی بستی آباد کر دے اک شب چراغ ویرانہ بن جا خلوت میں کیا ہے جلوت میں گم ہو زندہ حقیقت افسانہ بن جا بے سوز ہے بزم علم و دانش شمع یقیں کا پروانہ بن جا کتنی پیے گا جام و سبو سے مست نگاہ مستانہ بن جا
نظر نیچی ہے یار خوش نظر کی کرامت ہے یہ میری چشم تر کی مبارک تجھ کو اے سرو خراماں جوانی دھوپ جیسے دوپہر کی اسی کو لطف آیا زندگی کا جنوں میں زندگی جس نے بسر کی یہاں پرواز کے آداب سیکھو اسیری تربیت ہے بال و پر کی سفر کٹتا ہے اکثر بے خودی میں ادائیں یاد ہیں اک ہم سفر کی خوشا اے سوز ...
بیابانوں پہ زندانوں پہ ویرانوں پہ کیا گزری جہان ہوش میں آئے تو دیوانوں پہ کیا گزری دکھاؤں تجھ کو منظر کیا گلوں کی پائمالی کا چمن سے پوچھ لے نوخیز ارمانوں پہ کیا گزری بہار آئے تو خود ہی لالہ و نرگس بتا دیں گے خزاں کے دور میں دل کش گلستانوں پہ کیا گزری نشان شمع محفل ہے نہ خاک اہل ...
ضروری کب ہے کہ ہر کام اختیاری کریں اب اپنے آپ کو اتنا نہ خود پہ طاری کریں یہ انجماد بھی ٹوٹے گا دیکھنا اک دن ہم اعتماد سے پہلے تو خود کو جاری کریں کوئی بھی کھیل ہو حیران اب نہیں کرتا نہ جانے کون سے کرتب نئے مداری کریں بلاوا عرش سے آتا ہے گر تو آتا رہے جو خاک زادے ہی ٹھہرے تو ...
صرف تھوڑی سی ہے انا مجھ میں ورنہ باقی ہے بس خلا مجھ میں اندر اندر مجھے یہ کھاتی ہے ایک بھوکی سی ہے بلا مجھ میں ڈھہ رہا ہوں میں اک کھنڈر کی طرح اک بھٹکتی ہے آتما مجھ میں اب ہر اک بات پر میں راضی ہوں جانے یہ کون مر گیا مجھ میں میری آوارگی سے گھبرا کر مڑ گیا میرا راستہ مجھ ...
جنت سے نکالا نہ جہنم سے نکالا اس نے تو مجھے خوشۂ گندم سے نکالا رکھا ہے مجھے آج تلک موج میں اس نے جس لہر کو گرداب و تلاطم سے نکالا یہ بھول ہی بیٹھا تھا زباں رکھتا ہوں میں بھی سو خود کو ترے سحر تکلم سے نکالا اس عادت تاخیر کو اک عمر ہے درکار مشکل سے طبیعت کو تقدم سے نکالا تدبیر کو ...
خزاں کی آزمائش ہو گیا ہوں میں اک جنگل کی چاہت میں ہرا ہوں مری کشتی کبھی غرقاب کی تھی ابھی تک میں سمندر سے خفا ہوں پرندے ہو گئے ناراض مجھ سے کہا جب میں بھی اڑنا چاہتا ہوں کوئی وحشت سے بھی ملوائے مجھ کو میں صحرا میں ابھی بالکل نیا ہوں ابھی اک روشنی آئی تھی ملنے سبب کیا ہے کہ میں ...
ان دنوں تیز بہت تیز ہے دھارا میرا دونوں جانب سے ہی کٹتا ہے کنارا میرا سرد ہو جاتی ہے ہر آگ بالآخر اک دن دیکھیے زندہ ہے کب تک یہ شرارہ میرا نفع در نفع سے بھی کیا کبھی زائل ہوگا روح پر بوجھ بنا ہے جو خسارہ میرا ہے یہ عالم کہ نہیں خود کو میسر میں بھی کیسے اب ہوتا ہے مت پوچھ گزارا ...