شاعری

لفظوں میں اک نئے سفر کا کرتا ہے آغاز بدن

لفظوں میں اک نئے سفر کا کرتا ہے آغاز بدن نقطہ نقطہ پھیل کے مجھ کو دیتا ہے آواز بدن ہر پل ٹوٹ بکھرنا خدشہ ٹھیس لگے تو کانپ اٹھتا ہے شیشہ شیشہ روپ لیے ہے پتھر کا دم ساز بدن اڑتا بادل ڈھلتی چھایا اک اک پل میں سو سو کایا اڑتے روز و شب سے آگے کرتا ہے پرواز بدن انجانی ان دیکھی صدائیں ...

مزید پڑھیے

ایک نظم

شب کے پھاٹک سے پرے میں نے چرائے بوسے جو تیرے زانو کی رحل پہ ٹھٹکے دھان کے خیمے میں اک تو تھا یا پانی کا لگاتار خروش آخری بار جوانی کی کتاب دختر رز نے کھولی

مزید پڑھیے

عجب کیا حوصلے اے دل ہمارے ٹوٹ جاتے ہیں

عجب کیا حوصلے اے دل ہمارے ٹوٹ جاتے ہیں عتاب گردش دوراں سے تارے ٹوٹ جاتے ہیں ہوئی ہیں ریزہ ریزہ خود چٹانیں ہم سے ٹکرا کے مگر ہم دیکھ کر آنسو تمہارے ٹوٹ جاتے ہیں میں چاہوں مسکرانا تو چھلک جاتے ہیں اب آنسو کہ اکثر سیل دریا سے کنارے ٹوٹ جاتے ہیں نصیحت اے مری بیٹی ہمیشہ دھیان میں ...

مزید پڑھیے

ظلم و ستم کا جبر کا انجام کیا ہوا

ظلم و ستم کا جبر کا انجام کیا ہوا تھا نامور تو خوب مگر نام کیا ہوا یہ پوچھتی ہے وقت کی دیمک بتا ذرا جمشید تو کہاں ہے ترا جام کیا ہوا جلتے مچلتے غم میں پگھلتے رہے مگر آئی جو صبح بھول گئے شام کیا ہوا میرا دیا بجھا نہ سکی سر پھری ہوا روٹھی ہے تو بھی گردش ایام کیا ہوا راون تھا میں ...

مزید پڑھیے

جانا کہاں ہے اور کہاں جا رہے ہیں ہم

جانا کہاں ہے اور کہاں جا رہے ہیں ہم اپنوں کی رہنمائی سے گھبرا رہے ہیں ہم تم نے تو اک نگاہ اٹھائی ہے اس طرف سو سو امیدیں باندھ کے اترا رہے ہیں ہم ناکام ہو کے اپنی صدا لوٹ آئے گی یہ جان کر بھی دشت میں چلا رہے ہیں ہم سب اپنی اپنی راہ پر آگے نکل گئے اب کس کا انتظار کئے جا رہے ہیں ...

مزید پڑھیے

بے وفا کہئے با وفا کہئے

بے وفا کہئے با وفا کہئے دل میں آئے جو برملا کہئے ان کے ظلم و ستم کا کیا شکوہ حسن کی شوخی‌ٔ ادا کہئے دے دیا دل کسی ستم گر کو آپ چاہے اسے خطا کہئے ہر خوشی کا نکھار ہے اس میں لذت غم کو اور کیا کہئے دل کبھی اس کو مانتا ہی نہیں آپ خود کو نہ بے وفا کہئے اپنے دامن کی کچھ خبر ہے ...

مزید پڑھیے

بیزار اس قدر ہیں تری بے رخی سے ہم

بیزار اس قدر ہیں تری بے رخی سے ہم مدت ہوئی کہ ملتے نہیں ہیں کسی سے ہم پوچھا کسی نے حال تو بس مسکرا دئے سچ بات کو بھی ٹال گئے سادگی سے ہم اپنے بھی بد گماں ہیں زمانہ بھی ہے خفا باز آئے ترے عشق تری دلبری سے ہم ہم کو ہمارے گھر کا اندھیرا عزیز ہے رہتے ہیں دور دور نئی روشنی سے ہم کوئے ...

مزید پڑھیے

اب چراغوں میں زندگی کم ہے

اب چراغوں میں زندگی کم ہے دل جلاؤ کہ روشنی کم ہے تاب نظارہ ہے وہی لیکن ان کے جلووں میں دل کشی کم ہے بدلا بدلا مزاج ہے اس کا اس کی باتوں میں چاشنی کم ہے کیف و مستی سرور کیا معنی زندگی میں بھی اب خوشی کم ہے وقت نے بھر دیئے ہیں زخم مجیدؔ اپنی آنکھوں میں اب نمی کم ہے

مزید پڑھیے

زندگی چھوٹی ہے سامان بہت

زندگی چھوٹی ہے سامان بہت اور دل کے بھی ہیں ارمان بہت کیا حقیقت ہے اسے کیا معلوم خوش گماں رہتا ہے نادان بہت ہر قدم پر ہیں صنم خانے کئی آج خطرے میں ہے ایمان بہت دوستو کچھ تو کرو اس کے لئے جانے کیوں دل ہے پریشان بہت مطمئن ہے جو مقدر سے مجیدؔ ہے یہ اللہ کا احسان بہت

مزید پڑھیے

کہاں شکوہ زمانے کا پس دیوار کرتے ہیں

کہاں شکوہ زمانے کا پس دیوار کرتے ہیں ہمیں کرنا ہے جو بھی ہم سر بازار کرتے ہیں زمانے سے رواداری کا رشتہ اب بھی باقی ہے مگر سودا کسی سے دل کا ہم اک بار کرتے ہیں محاذ جنگ پر سینہ سپر ہو کر میں چلتا ہوں مگر بزدل ہمیشہ پشت پر ہی وار کرتے ہیں نہیں ملتی انہیں منزل جنہیں خوف حوادث ہے جو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5737 سے 5858