شاعری

ہم نفسو اجڑ گئیں مہر و وفا کی بستیاں (ردیف .. ا)

ہم نفسو اجڑ گئیں مہر و وفا کی بستیاں پوچھ رہے ہیں اہل مہر و وفا کو کیا ہوا عشق ہے بے گذار کیوں حسن ہے بے نیاز کیوں میری وفا کہاں گئی ان کی جفا کو کیا ہوا یہ تو بجا کہ اب وہ کیف جام شراب میں نہیں ساقی مے کے غمزۂ ہوش ربا کو کیا ہوا اب نہیں جنت مشام کوچہ یار کی شمیم نکہت زلف کیا ہوئی ...

مزید پڑھیے

وہ ہے حیرت فزائے چشم معنی سب نظاروں میں

وہ ہے حیرت فزائے چشم معنی سب نظاروں میں تڑپ بجلی میں اس کی اضطراب اس کا ستاروں میں مدد اے اضطراب شوق تو جان تمنا ہے نکل اے صبر تیرا کام کیا ہے بے قراروں میں یہ کس کا نام لے کر جان دی بیمار الفت نے یہ کس ظالم کا چرچا رہ گیا تیمارداروں میں ذرا سی چھیڑ بھی کافی ہے مضراب محبت کی کہ ...

مزید پڑھیے

مرے دل میں ہے کہ پوچھوں کبھی مرشد مغاں سے

مرے دل میں ہے کہ پوچھوں کبھی مرشد مغاں سے کہ ملا جمال ساقی کو یہ طنطنہ کہاں سے وہ یہ کہہ رہے ہیں ہم کو ترے حال کی خبر کیا تو اٹھا سکا نگاہیں نہ بتا سکا زباں سے جو انہیں وفا کی سوجھی تو نہ زیست نے وفا کی ابھی آ کے وہ نہ بیٹھے کہ ہم اٹھ گئے جہاں سے میں عدم کے لالہ زاروں میں نواگر ازل ...

مزید پڑھیے

ادب میں مدعیٔ فن تو بے شمار ملے

ادب میں مدعیٔ فن تو بے شمار ملے مگر نہ میرؔ کے غالبؔ کے ورثہ دار ملے جنون عشق کو دامن تو تار تار ملا مزا تو جب ہے گریباں بھی تار تار ملے بڑے مزے سے گزاری ہے زندگی میں نے خدا کے فضل سے حالات سازگار ملے کسی کے دل پہ بھلا اختیار کیا ہوگا بہت ہے اپنے ہی دل پر جو اختیار ملے یہ کیا ستم ...

مزید پڑھیے

محبت کا جسے عرفاں نہیں ہے

محبت کا جسے عرفاں نہیں ہے وہ سب کچھ ہے مگر انساں نہیں ہے شعور زندگی پر مٹنے والو شعور زندگی آساں نہیں ہے طلب کا ہاتھ بڑھتا جا رہا ہے خیال وسعت داماں نہیں ہے خفا بے وجہ ناصح ہو رہے ہو تمہاری بات کچھ قرآں نہیں ہے وہ مست حال ہے وصفیؔ کہ اس کو غم دل ہے غم دوراں نہیں ہے

مزید پڑھیے

دل ان کی محبت کا جو دیوانہ لگے ہے

دل ان کی محبت کا جو دیوانہ لگے ہے یہ ایسی حقیقت ہے جو افسانہ لگے ہے عالم نہ کوئی پوچھے مری وحشت دل کا گھر اپنے اگر جاؤں تو ویرانہ لگے ہے بڑھتے نہیں کیوں میرے قدم آگے کی جانب نزدیک ہی شاید در جانانہ لگے ہے ویسے تو کسی نے مجھے ایسا نہیں جانا دیوانہ کہا تم نے تو دیوانہ لگے ...

مزید پڑھیے

کاش سمجھتے اہل زمانہ

کاش سمجھتے اہل زمانہ کیا ہے حقیقت کیا ہے فسانہ عشق کا شیوہ حسن کی فطرت ایک حقیقت ایک فسانہ راہ وفا دشوار بہت ہے سوچ سمجھ کر پاؤں بڑھانا تم نہ ہو جس کے کون ہو اس کا جس کے ہوئے تم اس کا زمانہ رہرو راہ عشق و محبت جان تو دینا لب نہ ہلانا پہلوئے گل میں خار نہاں ہیں گلچیں اپنا ہاتھ ...

مزید پڑھیے

کیا کیا سپرد خاک ہوئے نامور تمام

کیا کیا سپرد خاک ہوئے نامور تمام اک روز سب کو کرنا ہے اپنا سفر تمام میری نظر نے لوٹ لئے جلوہ ہائے حسن حسرت سے دیکھتے ہی رہے دیدہ ور تمام تم نے تو اپنا کہہ کے مجھے لوٹ ہی لیا ماتم کناں ہے میرے لئے گھر کا گھر تمام مانا کہ میرے لب نہ ہلے رعب حسن سے روداد دل تو کہہ ہی گئی چشم تر ...

مزید پڑھیے

میں جانتا ہوں کون ہوں میں اور کیا ہوں میں

میں جانتا ہوں کون ہوں میں اور کیا ہوں میں دنیا سمجھ رہی ہے کہ اک پارسا ہوں میں اب مجھ میں اور تجھ میں کوئی فاصلہ نہیں تو میرا مدعا ہے ترا مدعا ہوں میں واعظ جبین شوق جھکے تو کہاں جھکے نقش قدم ہی ان کے ابھی ڈھونڈھتا ہوں میں دل کو تجلیات کا مرکز بنا لیا اب ان کا نام لینے کے قابل ہوا ...

مزید پڑھیے

کرتے نہیں جفا بھی وہ ترک وفا کے ساتھ

کرتے نہیں جفا بھی وہ ترک وفا کے ساتھ یہ کون سا ستم ہے دل مبتلا کے ساتھ اب وہ جبین شوق کہیں اور کیوں جھکے وابستہ ہو گئی جو ترے نقش پا کے ساتھ وارفتۂ جمال کا عالم نہ پوچھئے دیوانہ وار اٹھتی ہیں نظریں صدا کے ساتھ سرخی تمہارے ہاتھ کی کہتی ہے صاف صاف شامل ہے میرے دل کا لہو بھی حنا کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5730 سے 5858