شاعری

زخم دل اپنا کبھی اس کو دکھا بھی دینا

زخم دل اپنا کبھی اس کو دکھا بھی دینا اس کی سن لینا کبھی اس کو سنا بھی دینا آنسوؤں اور شرابوں کی کہانی کب تک مری غزلوں کو کوئی رنگ نیا بھی دینا میں ہوں منزل کا طلب گار مگر راہنما مجھ کو دو چار قدم راہ وفا بھی دینا ترے احسان نہ ہرگز میں کبھی بھولوں گا بھول جاؤں تو مجھے یاد دلا بھی ...

مزید پڑھیے

تمہیں اتنا بتا دوں میں کسی انجام سے پہلے

تمہیں اتنا بتا دوں میں کسی انجام سے پہلے بہت سے نام آئیں گے تمہارے نام سے پہلے ہر اک اکرام سے پہلے ہر اک انعام سے پہلے نمٹنا ہے مجھے یارو کسی الزام سے پہلے اندھیرے سے بڑا ہوتا ہے دیکھو ڈر اندھیرے کا چراغوں کو جلا رکھا ہے اس نے شام سے پہلے میں جب شہرت کے رستے پر نکلتا ہوں تو ملتا ...

مزید پڑھیے

بہت دن سے بتانا چاہتا ہوں

بہت دن سے بتانا چاہتا ہوں تمہیں میں غائبانہ چاہتا ہوں بظاہر روٹھ جانا چاہتا ہوں مقدر آزمانا چاہتا ہوں تمہیں فرصت نہیں ہے لمحہ بھر کی ادھر میں اک زمانہ چاہتا ہوں مجھے بھی پریم ہے اردو سے یارو غزل سے آب و دانہ چاہتا ہوں مجھے ڈر ہے نعیمؔ اس بار میں بھی تعلق تاجرانہ چاہتا ہوں

مزید پڑھیے

اس کا انداز ہے جدا سب سے

اس کا انداز ہے جدا سب سے فاصلہ سب سے رابطہ سب سے لوگ مصروف ہیں فسانوں میں آپ کہہ دیجے واقعہ سب سے جانے کیوں طے ہوا نہیں اب تک دو قدم ہی کا فاصلہ سب سے چند ناموں پہ پردہ رہنے دو میری اتنی ہے التجا سب سے چپ رہا کرتا ہے نعیمؔ اکثر جب سے واقف وہ ہو گیا سب سے

مزید پڑھیے

آج

کل کی آرزو میں ہم آج سے الجھ بیٹھے اور پھر سکوں جیسے خواب ہو پریشاں سا آئیے ذرا صاحب اس سے پہلے یوں کر لیں آج کو سنواریں ہم کل کی ہے خبر کس کو

مزید پڑھیے

بچپن

ننھے منے بچوں کو دیکھ کر کبھی اکثر مسکرانے لگتا ہوں جیسے کوئی اپنا سا مدتوں میں مل جائے اور پھر نہ جانے کیوں آنکھ خون روتی ہے اس سہانے بچپن میں خواب جتنے دیکھے تھے یاد آنے لگتے ہیں

مزید پڑھیے

جھجک

ڈرتے ڈرتے کل میں نے اپنے لب جو کھولے تو چھوٹے چھوٹے لفظوں کی گہری گہری باتوں پر جھیل جھیل آنکھوں سے مسکرا رہا تھا وہ جیسے وہ بھی مدت سے منتظر تھا اس پل کا

مزید پڑھیے

یوں حسرتوں کی بھیڑ ہے تنہائیوں کے پاس

یوں حسرتوں کی بھیڑ ہے تنہائیوں کے پاس جیسے محل میں داسیاں شہزادیوں کے پاس بچے جھلس نہ جائیں جہالت کی آگ میں رکھئے نہ اس کپاس کو چنگاریوں کے پاس جن رہبروں کے دل میں ہر اک کا خیال تھا وہ نورتن نہیں رہے درباریوں کے پاس وہ سادگی وہ ناز و ادا خواب ہو گئے بس خود نمائی رہ گئی ...

مزید پڑھیے

کنارے معتبر ہوتے محافظ ناخدا ہوتا

کنارے معتبر ہوتے محافظ ناخدا ہوتا نہ کشتی ڈوبتی کوئی نہ ہر پل سانحہ ہوتا یہاں حق بات یارو فائلوں میں نہ دبی ہوتی عمر فاروق جیسا گر ہمیں منصف ملا ہوتا حسد و بغض و کینہ خود نمائی ہیں سبھی فتنے یہ نہ ہوتے اگر شیطاں نے اک سجدہ کیا ہوتا لچک پتھر میں گر ہوتی تو پھر پتھر نہ کہلاتا وہ ...

مزید پڑھیے

الفاظ صبر و شکر کے بولی میں آ گئے

الفاظ صبر و شکر کے بولی میں آ گئے جنت کے پھل غریب کی جھولی میں آ گئے پہلی سی اب نہ راتیں نہ نیندیں نہ خواب ہیں سپنے سمٹ کے نیند کی گولی میں آ گئے رنگوں کا کیا منائیں گے تہوار آج لوگ ان کو مزے تو خون کی ہولی میں آ گئے کٹیا سے بالاتر رہے خوف و ہراس و غم خطرے حویلیوں میں رنگولی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5715 سے 5858