شدت بہار کی بھی گوارا نہیں مجھے
شدت بہار کی بھی گوارا نہیں مجھے پھولوں کے توڑنے کا بھی یارا نہیں مجھے موجوں سے کھیلتا ہوں ارادوں کا دور ہے موجوں میں آرزوئے کنارہ نہیں مجھے میں گر پڑا تھا راہ میں چلتے ہوئے مگر پھر بھی تو دوستوں نے پکارا نہیں مجھے کس دن چبھی نہیں ہیں مصائب کی کرچیاں کس دن تمہارے غم نے سنوارا ...