شاعری

راہ دشوار بھی ہے بے سر و سامانی بھی

راہ دشوار بھی ہے بے سر و سامانی بھی اور اس دل کو ہے کچھ اور پریشانی بھی یہ جو منظر ترے آگے سے سرکتا ہی نہیں اس میں شامل ہے تری آنکھ کی حیرانی بھی اپنے مجبور پہ کچھ اور کرم ہو کہ اسے کم پڑی جاتی ہے اب غم کی فراوانی بھی صرف افسوس کا سایہ ہی نہیں ہے ہم پر ہم کہ ہیں خواب تب و تاب کے ...

مزید پڑھیے

کیا جانیے کیا ہے حد ادراک سے آگے

کیا جانیے کیا ہے حد ادراک سے آگے بس خاک ہے اس تیری مری خاک سے آگے ہے شور فغاں خامشیٔ مرگ کے پیچھے اک تیز ہوا ہے خس و خاشاک سے آگے ہم دیکھتے ہیں آنکھ میں سہمے ہوئے آنسو اک چپ ہے کہیں خندۂ بے باک سے آگے اک رنگ سا ہے رنگ تمنا سے مماثل اک ابر سا ہے دیدۂ نم ناک سے آگے میں اپنے کسی خواب ...

مزید پڑھیے

اک فراموش کہانی میں رہا

اک فراموش کہانی میں رہا میں جو اس آنکھ کے پانی میں رہا رخ سے اڑتا ہوا وہ رنگ بہار ایک تصویر پرانی میں رہا میں کہ معدوم رہا صورت خواب پھر کسی یاد دہانی میں رہا ڈھنگ کے ایک ٹھکانے کے لیے گھر کا گھر نقل مکانی میں رہا میں ٹھہرتا گیا رفتہ رفتہ اور یہ دل اپنی روانی میں رہا وہ مرا ...

مزید پڑھیے

کچھ کام نہیں ہے یہاں وحشت کے برابر

کچھ کام نہیں ہے یہاں وحشت کے برابر سو تم ہمیں غم دو کوئی ہمت کے برابر کب لگتا ہے جی راہ سہولت میں ہمیشہ اور ملتا ہے کب رنج ضرورت کے برابر آسائش و آرام ہو یا جاہ و حشم ہو کیا چیز یہاں پر ہے محبت کے برابر گنجائش افسوس نکل آتی ہے ہر روز مصروف نہیں رہتا ہوں فرصت کے برابر بھر لائے ...

مزید پڑھیے

جو بھی یکجا ہے بکھرتا نظر آتا ہے مجھے

جو بھی یکجا ہے بکھرتا نظر آتا ہے مجھے جانے یوں ہے بھی کہ ایسا نظر آتا ہے مجھے چشم وا میں تو وہی منظر خالی ہے جو تھا موند لوں آنکھ تو کیا کیا نظر آتا ہے مجھے مائل عرض تمنا ہے نہ ہے وقف ملال اے مرے دل تو ٹھہرتا نظر آتا ہے مجھے پس نظارہ کوئی خواب گریزاں ہی نہ ہو دیکھنے میں تو تماشا ...

مزید پڑھیے

اور کیا رہ گیا ہے ہونے کو

اور کیا رہ گیا ہے ہونے کو ایک آنسو نہیں ہے رونے کو خواب اچھے رہیں گے ان دیکھے خاک اچھی رہے گی سونے کو یہ مہ و سال چند باقی ہیں اور کچھ بھی نہیں ہے کھونے کو نارسائی کا رنج لائے ہیں تیرے دل میں کہیں سمونے کو چشم نم چار اشک اور ادھر داغ اک رہ گیا ہے دھونے کو بیٹھنے کو جگہ نہیں ...

مزید پڑھیے

قصے سے ترے میری کہانی سے زیادہ

قصے سے ترے میری کہانی سے زیادہ پانی میں ہے کیا اور بھی پانی سے زیادہ اس خاک میں پنہاں ہے کوئی خواب مسلسل ہے جس میں کشش عالم فانی سے زیادہ نخل گل ہستی کے گل و برگ عجب ہیں اڑتے ہیں یہ اوراق خزانی سے زیادہ ہر رخ ہے کہیں اپنے خد و خال سے باہر ہر لفظ ہے کچھ اپنے معانی سے زیادہ وہ حسن ...

مزید پڑھیے

ہوا ہر اک سمت بہہ رہی ہے

ہوا ہر اک سمت بہہ رہی ہے جلو میں کوچے مکان لے کر سفر کے بے انت پانیوں کی تھکان لے کر جو آنکھ کے عجز سے پرے ہیں انہی زمانوں کا گیان لے کر ترے علاقے کی سرحدوں کے نشان لے کر ہوا ہر اک سمت بہہ رہی ہے زمین چپ آسمان وسعت میں کھو گیا ہے فضا ستاروں کی فصل سے لہلہا رہی ہے مکاں مکینوں کی آہٹوں ...

مزید پڑھیے

ایک منظر

منڈیروں پر رات رینگ رہی ہے اور کیاریوں میں پانی کی مہک سوئی ہوئی ہے سہمے دروازوں اور خوابیدہ روشن دانوں کے سائے میں چاندنی کا لحاف اوڑھے کوئی گلی سے گزرتا ہے نیند کے دالان میں دودھ بھرے برتن کے گرنے کی آواز آتی ہے لمس اور تنفس کے نم سے ہوا بوجھل ہے کروٹیں سانس لیتی ہیں اور کونے ...

مزید پڑھیے

دوام وصل کا خواب

پکی گندم کے خوشوں میں امڈتے دن کے ڈیروں میں اندھیرے کی گھنی شاخوں پرندوں کے بسیروں میں تھکے بادل سے گرتے نام کے اندر اترتی شام کے اندر دوام وصل کا اک خواب ہے جو سانس لیتا ہے مہکتی سر زمینوں میں مکانوں میں مکینوں میں ترے میرے علاقوں میں ہمارے عہد ناموں میں لرزتے بادبانوں میں کہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5697 سے 5858