کیوں نہ اپنی خوبیٔ قسمت پہ اتراتی ہوا
کیوں نہ اپنی خوبیٔ قسمت پہ اتراتی ہوا پھول جیسے اک بدن کو چھو کر آئی تھی ہوا یوں خیال آتا ہے اس کا یاد آئے جس طرح گرمیوں کی دوپہر میں شام کی ٹھنڈی ہوا اور ابھی سلگیں گے ہم کمرے کے آتش دان میں اور ابھی کہسار سے اترے گی برفیلی ہوا ہم بھی اک جھونکے سے لطف اندوز ہو لیتے کبھی بھولے ...