کیوں مرے لب پہ وفاؤں کا سوال آ جائے
کیوں مرے لب پہ وفاؤں کا سوال آ جائے عین ممکن ہے اسے خود ہی خیال آ جائے ہجر کی شام بھی سینے سے لگا لیتا ہوں کیا خبر یوں ہی کبھی شام وصال آ جائے گھر اسی واسطے جنگل میں بدل ڈالا ہے شاید ایسے ہی ادھر میرا غزال آ جائے دھنک ابھرے سر افلاک کڑی دھوپ میں بھی دشت وحشت میں اگر تیرا خیال آ ...