زندگانی سراب کی سی طرح
زندگانی سراب کی سی طرح باد بندی حباب کی سی طرح تجھ اوپر خون بے گناہوں کا چڑھ رہا ہے شراب کی سی طرح کون چاہے گا گھر بسر تجھ کو مجھ سے خانہ خراب کی سی طرح ٹک خبر لے کہ تیرے ہاتھوں سیں جل رہا ہوں کباب کی سی طرح
زندگانی سراب کی سی طرح باد بندی حباب کی سی طرح تجھ اوپر خون بے گناہوں کا چڑھ رہا ہے شراب کی سی طرح کون چاہے گا گھر بسر تجھ کو مجھ سے خانہ خراب کی سی طرح ٹک خبر لے کہ تیرے ہاتھوں سیں جل رہا ہوں کباب کی سی طرح
یا سجن ترک ملاقات کرو یا ملو دو میں سے اک بات کرو سب بتاں رشک سیں ہو جاں مال ناز کا اسپ اگر لات کرو پاؤں پڑنے کوں سعادت سمجھو یار کے دل کوں اگر ہات کرو جنگ کا وقت نہیں یہ پیارے گھر میں آئے ہیں مدارات کرو جن کو مضمون کا دعویٰ ہے انہیں آبروؔ سیں کہو دو ہات کرو
محبت سحر ہے یارو اگر حاصل ہو یک روئی یہ افسوں خوب اثر کرتا ہے لیکن جبکہ جادوئی خیال ماسوا سیں صاف کر تو اپنے سینے کوں کہ دل کے رشتۂ اخلاص کوں لازم ہے یکسوئی لباس پنبئی بن کیونکے گزرے موسم سرما قیامت ہے یہ تیری سرد مہری تس پے یہ سردی اندھیرا آ گیا آنکھوں کے آگے خشم سوں میری جبھی ...
نہ پاوے چال تیرے کی پیارے یہ ڈھلک دریا چلا جاوے اگرچہ رووتا محشر تلک دریا کہاں ایسا مبکی ہو کہ جاوے تا فلک دریا نہیں ہم چشم میرے اشک کا مارے ہے جھک دریا ہوا ہے چشم حیرت دیکھ تیری آب رفتاری کنارے نہیں رہا ہے کھول ان دونوں پلک دریا بھر آوے آب حسرت اس کے منہ میں جب لہر آوے اگر ...
شب سیاہ ہوا روز اے سجن تجھ بن مثال شمع جلے اہل انجمن تجھ بن ہوئی ہے جان مجھے زندگی مرن تجھ بن کفن ہوئی ہیں بدن کے اوپر بسن تجھ بن نہ شہر بیچ مرا دل لگے نہ صحرا میں کچھ آوتی نہیں اے ماہ مجھ سیں بن تجھ بن ہوا ہے آگ کا شعلہ شراب پیالے میں لگا ہے جان لباں کوں مرے دہن تجھ بن اداس دل پہ ...
رتا ہے ابرواں پر ہاتھ اکثر لاوبالی کا ہنر سیکھا ہے اس شمشیر زن نے بید مالی کا ہر اک جو عضو ہے سو مصرع دلچسپ ہے موزوں مگر دیوان ہے یہ حسن سر تا پا جمالی کا نگیں کی طرح داغ رشک سوں کالا ہوا لالا لیا جب نام گلشن میں تمہارے لب کی لالی کا رقیباں کی ہوا ناچیز باتاں سن کے یوں بد ...
نپٹ یہ ماجرا یارو کڑا ہے مسافر دشمنوں میں آ پڑا ہے رقیب اپنے اوپر ہوتے ہیں مغرور غلط جاناں ہے حق سب سیں بڑا ہے جو وہ بولے سوئی وہ بولتا ہے رقیب اب بھوت ہو کر سر چڑھا ہے خدا حافظ ہے میرے دل کا یارو پتھر سیں جا کے یہ شیشہ لڑا ہے برنگ ماہیٔ بے آب نس دن سجن نیں دل ہمارا تڑپھڑا ...
اگر دل عشق سیں غافل رہا ہے تو اپنے فن میں نا قابل رہا ہے دل و دیں سے تو گزرا اب خودی چھوڑ گھر اس مہ کا اب اک منزل رہا ہے جدائی کے کرے تدبیر اب کون یہ دل تھا سو اسی سیں مل رہا ہے نہ باندھو صید رہنے کا نہیں باز دل اپنی حرکتوں سیں ہل رہا ہے مثل برق دنیا سے گزر جا ایتا کیوں اس میں بے ...
تیرہ رنگوں کے ہوا حق میں یہ تپ کرنا دوا تیرگی جاتی رہی چہرے کی اور اپچی صفا کیا سبب تیرے بدن کے گرم ہونے کا سجن عاشقوں میں کون جلتا تھا گلے کس کے لگا تو گلے کس کے لگے لیکن کنھی بے رحم نے گرم دیکھا ہوئے گا تیرے تئیں انکھیاں ملا بو الہوس ناپاک کی ازبسکہ بھاری ہے نظر پردۂ عصمت میں ...
سرسوں لگا کے پاؤں تلک دل ہوا ہوں میں یاں لگ ہنر میں عشق کے کامل ہوا ہوں میں سینکوں نگاہ گرم سیں خوش چشم کی مجھے شمشیر اس بھواں کے سیں گھائل ہوا ہوں میں مانند آسماں ہے مشبک مرا جگر کس کی نگہ سیں آج مقابل ہوا ہوں میں بھاری ہے دیکھنا مرا تجھ کن رقیب کوں چھاتی پے اس کی آج بجرسل ہوا ...