شاعری

رخسار کے پرتو سے بجلی کی نئی دھج ہے

رخسار کے پرتو سے بجلی کی نئی دھج ہے کیوں آنکھ جھپکتی ہے کیا سامنے سورج ہے دنیا کی زمینوں سے اے چرخ تو کیا واقف اک اک یہاں پنہاں کاؤس ہے ایرج ہے دروازے پہ اس بت کے سو بار ہمیں جانا اپنا تو یہی کعبہ اپنا تو یہی حج ہے اے ابروئے جاناں تو اتنا تو بتا ہم کو کس رخ سے کریں سجدہ قبلے میں ...

مزید پڑھیے

جان دیتے ہی بنی عشق کے دیوانے سے

جان دیتے ہی بنی عشق کے دیوانے سے شمع کا حال نہ دیکھا گیا پروانے سے آتش عشق سے جل جل گئے پروانے سے پہلے یہ آگ لگی کعبہ و بت خانے سے ساقیا گریۂ غم سے مجھے مجبور سمجھ خون رستا ہے یہ ٹوٹے ہوئے پیمانے سے رات کی رات چمن میں ہے نمود شبنم صبح ہوتے ہی بکھر جائیں گے سب دانے سے دم آخر تری ...

مزید پڑھیے

مسکن وہیں کہیں ہے وہیں آشیاں کہیں

مسکن وہیں کہیں ہے وہیں آشیاں کہیں دو آڑے سیدھے رکھ لیے تنکے جہاں کہیں پھولوں کی سیج پھولوں کی ہیں بدھیاں کہیں کانٹوں پہ ہم تڑپتے ہیں او آسماں کہیں جاتے کدھر ہو تم صف محشر میں خیر ہے دامن نہ ہو خدا کے لیے دھجیاں کہیں پہرا بٹھا دیا ہے یہ قید حیات نے سایہ بھی ساتھ ساتھ ہے جاؤں ...

مزید پڑھیے

گری گر کر اٹھی پلٹی تو جو کچھ تھا اٹھا لائی

گری گر کر اٹھی پلٹی تو جو کچھ تھا اٹھا لائی نظر کیا کیمیا تھی رنگ چہروں سے اڑا لائی خدا کے واسطے سفاکیاں یہ کس سے سیکھی ہیں نظر سے پیار مانگا تھا وہ اک خنجر اٹھا لائی نہ حسرت ہی نکلتی ہے نہ دل کو آگ لگتی ہے مری ہستی مرے دامن میں کیا کانٹا لگا لائی وہ سب بدمستیاں تھیں زر کی اب زر ...

مزید پڑھیے

یہ کیسے بال کھولے آئے کیوں صورت بنی غم کی

یہ کیسے بال کھولے آئے کیوں صورت بنی غم کی تمہارے دشمنوں کو کیا پڑی تھی میرے ماتم کی شکایت کس سے کیجے ہائے کیا الٹا زمانہ ہے بڑھایا پیار جب ہم نے محبت یار نے کم کی جگر میں درد ہے دل مضطرب ہے جان بے کل ہے مجھے اس بے خودی میں بھی خبر ہے اپنے عالم کی نہیں ملتے نہ ملئے خیر کوئی مر نہ ...

مزید پڑھیے

مجھ کو آتا ہے تیمم نہ وضو آتا ہے

مجھ کو آتا ہے تیمم نہ وضو آتا ہے سجدہ کر لیتا ہوں جب سامنے تو آتا ہے یوں تو شکوہ بھی ہمیں آئینہ رو آتا ہے ہونٹ سل جاتے ہیں جب سامنے تو آتا ہے ہاتھ دھوئے ہوئے ہوں نیستی و ہستی سے شیخ کیا پوچھتا ہے مجھ سے وضو آتا ہے منتیں کرتی ہے شوخی کہ منا لوں تجھ کو جب مرے سامنے روٹھا ہوا تو آتا ...

مزید پڑھیے

بتوں کے واسطے تو دین و ایماں بیچ ڈالے ہیں

بتوں کے واسطے تو دین و ایماں بیچ ڈالے ہیں یہ وہ معشوق ہیں جو ہم نے کعبے سے نکالے ہیں وہ دیوانہ ہوں جس نے کوہ و صحرا چھان ڈالے ہیں انہیں تلووں سے تو ٹوٹے ہوئے کانٹے نکالے ہیں تراشی ہیں وہ باتیں اس ستم گر نے سر محفل کلیجے سے ہزاروں تیر چن چن کر نکالے ہیں جگر دل کے ورق ہیں وعدۂ ...

مزید پڑھیے

کیا خبر تھی راز دل اپنا عیاں ہو جائے گا

کیا خبر تھی راز دل اپنا عیاں ہو جائے گا کیا خبر تھی آہ کا شعلہ زباں ہو جائے گا حشر ہونے دے ستم گر ہم دکھا دیں گے تجھے پیارا پیارا یہ گریباں انگلیاں ہو جائے گا رات بھر کی ہیں بہاریں شمع کیا پروانہ کیا صبح ہوتے ہوتے رخصت کارواں ہو جائے گا حشر میں انصاف ہوگا بس یہی سنتے رہو کچھ ...

مزید پڑھیے

رونے سے جو بھڑاس تھی دل کی نکل گئی

رونے سے جو بھڑاس تھی دل کی نکل گئی آنسو بہائے چار طبیعت سنبھل گئی میں نے ترس ترس کے گزاری ہے ساری عمر میری نہ ہوگی جان جو حسرت نکل گئی بے چین ہوں میں جب سے نہیں دل لگی کہیں وہ درد کیا گیا کہ مرے دل کی کل گئی کہتا ہے چارہ گر کہ نہ پائے گا اندمال اچھا ہوا کہ زخم کی صورت بدل گئی اے ...

مزید پڑھیے

جس نے تجھے خلوت میں بھی تنہا نہیں دیکھا

جس نے تجھے خلوت میں بھی تنہا نہیں دیکھا اس دیکھنے والے کا کلیجہ نہیں دیکھا اف اف وہ اچٹتی سی نگاہ غلط انداز اس طرح سے دیکھا ہے کہ گویا نہیں دیکھا جس گل کو یہ سب ڈھونڈتی پھرتی ہیں ہوائیں تو نے تو اسے نرگس شہلا نہیں دیکھا دم آنکھوں میں اٹکا ہے خدا کے لیے آؤ پھر یہ نہ گلہ ہو مرا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5601 سے 5858