بے بسی
یہ بھٹکتی ہوئی روحیں یہ نشیب اور فراز تیری محفل میں فروزاں نہ ہوئی شمع نیاز تجھ کو تکلیف سماعت رہی میری آواز آنسوؤں سے نہ ہوئی سرد تری آتش ناز مہر و الفت کے ترانے رہے خوابیدۂ ناز عشق بیچارہ سمجھتا ہے جسے صبح چمن پیکر صبح میں اک رات ہے ویرانے کی گردش رنگ سے تزئین نظر کیا ہوتی ہاں ...