یہ وفائیں ساری دھوکے پھر یہ دھوکے بھی کہاں
یہ وفائیں ساری دھوکے پھر یہ دھوکے بھی کہاں چند دن کی بات ہے پھر لوگ ہم سے بھی کہاں تم کو آنا تھا نہ آئے وقت لیکن کٹ گیا مضمحل ہوتے ہو کیوں ہم رات روئے بھی کہاں پیڑ یہ سوکھے ہوئے کچھ یہ زمیں تپتی ہوئی چلتے چلتے آج ٹھہرے ہم تو ٹھہرے بھی کہاں آج تو وہ دیر تک بیٹھے رہے خاموش سے رفتہ ...