راستے میں شام کا مقدر ہونا
اس کے لہجے میں شام ہو رہی تھی اور راستے راستوں کو چھوڑتے ہوئے کسی اور راستے پر جا رہے تھے اس کا بدن خود سے الگ ہونے کے لئے اپنے ہی بدن سے پوچھ رہا تھا کنوارے رہنے کی تپسیا اکارت گئی کسی چاہنے والے کو اس نے ایک بوسہ بھی نہیں دیا اس کی مٹی نے کسی اور مٹی کو چھوا ہی نہیں شریعت کی آمریت ...