بے برگ شجر
اب میں کس سے کہوں کہ کہنے کے لیے کچھ بھی نہیں نہ حرف و لفظ نہ آواز نہ سماعت کوئی رشتہ ناتا ہے نہیں اک اک کر کے رشتے ناتے مٹی سے بچھڑ کے اور پانی میں ڈوبتے چلے جاتے ہیں وہاں جانے کا وقت آ گیا ہے ساتھ لے جانے والا پرندہ سر پر منڈلا رہا ہے اسی لیے درختوں کی پتلیاں بالکل خاموش ...