اول اول کی دوستی ہے ابھی
اول اول کی دوستی ہے ابھی اک غزل ہے کہ ہو رہی ہے ابھی میں بھی شہر وفا میں نو وارد وہ بھی رک رک کے چل رہی ہے ابھی میں بھی ایسا کہاں کا زود شناس وہ بھی لگتا ہے سوچتی ہے ابھی دل کی وارفتگی ہے اپنی جگہ پھر بھی کچھ احتیاط سی ہے ابھی گرچہ پہلا سا اجتناب نہیں پھر بھی کم کم سپردگی ہے ...